حکومت کسانوں پر ٹیکس ختم، فصلوں کی منصفانہ قیمت مقرر کرے،خالد حسین باٹھ
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
حکومت کسانوں پر ٹیکس ختم، فصلوں کی منصفانہ قیمت مقرر کرے،خالد حسین باٹھ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سٹی رپورٹر)کسان اتحادکے مرکزی چیئرمین خالد حسین باٹھ نے کہا ہے کہ حکومت کسانوں پر ٹیکس ختم کرے، فصلوں کی منصفانہ قیمت مقرر کرے، کرپشن مافیا کے خلاف کارروائی کرے اور زرعی سکینڈلز کی رپورٹس عوام کے سامنے لائے، حکومت نے گندم کا گندم کاشت ہونے سے پہلے ریٹ طے نہ کیا تو کسان گندم کاشت نہیں کرے گا،جس سے اربوں ڈالرز کی گندم باہر سے منگوانی پڑے گی،شوگر مافیا من مانی کر رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،مطالبات پورے نہ ہوئے توپورے ملک کے کسان اسلام آباد میں دھرنا دینگے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، خالد حسین باٹھ کامزید کہنا تھا کہ پنجاب میں اس وقت کسان بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، کسان کارڈ سے قرضہ ملنے کی وجہ سے کسانوں پر مزید سود اور ٹیکسز کا بوجھ ڈالا جا رہا ہیجو سراسر ناانصافی ہے،پورے پاکستان کے کسانوں کو کوئی ریلیف نہیں ملااور جو زرعی آبیانہ لگایا گیا ہے وہ ہم دینے کے قابل نہیں ہیں اور نہ ہی دے سکتے ہیں،خالد حسین باٹھ کا مزید کہنا تھا کہ پہلیکسانوں سے گنا سستے داموں خریدا گیا مگر آج مارکیٹ میں چینی دو سو روپے سے زائد میں فروخت ہو رہی ہے حالانکہ کسان سے جس ریٹ پر گنا خریدا گیا اس حساب سے چینی کی قیمت ایک سو بیس روپے فی کلو ہونی چاہیے تھی، شوگر مافیا من مانی کر رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، اگر کسان اپنی گندم چھبیس سو روپے سے زیادہ پر بیچنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف مقدمات درج کر دئیے جاتے ہیں اور گرفتاریاں کی جاتی ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت گندم کا بحران شروع ہونے والا ہیکیونکہ گندم انسانوں کے بجائے ونڈے کے طور پر جانوروں کیلئے استعمال ہو رہی ہے کیونکہ گندم کا ریٹ انتہائی کم ہے اور اگر حکومت نے گندم کا گندم کاشت ہونے سے پہلے ریٹ طے نہ کیا تو کسان گندم کاشت نہیں کرے گاجس سے اربوں ڈالرز کی گندم باہر سے منگوانی پڑے گی،وہ کسان جو پورے پاکستان کا پیٹ بھرتا ہے، آج خود دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہے، بجلی کے بل، ڈیزل کی قیمتیں، کھاد، بیج اور ادویات کے اخراجات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کسان اپنی فصل کی لاگت بھی پوری نہیں کر پا رہا،خالد حسین باٹھ نے کہا کہ چند سالوں سے گندم، چینی، کپاس اور چاول کے سکینڈل سامنے آتے ہیں، مگر چند دن بعد وہ فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں آج تک کسی سکینڈل کی تحقیقات یا رپورٹ عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔ گندم کے سکینڈل میں جو لوگ ملوث ہیں وہ آج حکومت میں اعلی عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے ہماری کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں ہیں اور خاص طور پرتحصیل ہارون آباد اور تحصیل فورٹ عباس میں حالیہ سیلابی بارشوں سے کپاس کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے ، مگر کسان کو کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ پنجاب کا کسان آج مر چکا ہے، اس میں مزید جینے کی سکت نہیں رہی، انہوں نیمیں حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں پر ٹیکس ختم کرے، فصلوں کی منصفانہ قیمت مقرر کرے، کرپشن مافیا کے خلاف کارروائی کرے اور زرعی سکینڈلز کی رپورٹس عوام کے سامنے لائے بصورت دیگر ملک بھرکسان اسلام آباد میں آکر دھرنا دینگے جو کہ مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ میں ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر کیس کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیل دائر سپریم کورٹ میں ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر کیس کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیل دائر پاکستان سب کا ہے، اور ہم سب مل کر اس کو سنواریں گے، ہماری خدمت کا سفر رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہے... اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات کی دعوت دیدی چیف جسٹس اور وزیر خزانہ کی ملاقات، قانون کی حکمرانی کیلئے مشترکہ کاوشوں پر زور بلاول بھٹو نے وفاق سے نیا این ایف سی ایوارڈ جاری کرنے کا مطالبہ کردیا سپریم کورٹ رولز 2025نافذ، نظرثانی درخواست کی مدت اور بینچ کا تعین، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فصلوں کی منصفانہ قیمت مقرر کرے کسانوں پر ٹیکس ختم خالد حسین باٹھ اسلام آباد گندم کاشت گندم کا رہا ہے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔