لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں ملک کے بیشتر حصوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کی پیش گوئی کردی۔محکمہ موسمیات کی آج جاری کردہ تازہ ترین ایڈوائزری کے مطابق، بحیرۂ عرب سے آنے والے مون سون کے جھکڑ پاکستان کے بالائی علاقوں میں مسلسل داخل ہو رہے ہیں، جبکہ خلیج بنگال سے آنے والی مرطوب ہوائیں ہفتے کے وسط میں مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

ایک مغربی ہوا کا سلسلہ، جو اس وقت خطے کو متاثر کر رہا ہے، 17 اگست سے مزید تیز ہونے کی پیش گوئی ہے۔ان حالات میں، 14 سے 17 اگست کے دوران اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں بارش، ہوا اور گرج چمک کے ساتھ کہیں کہیں موسلا دھار بارش متوقع ہے۔18 سے 21 اگست کے دوران شمالی علاقوں میں، بشمول وادی نیلم ، مظفرآباد، راولا کوٹ، پونچھ اور گلگت بلتستان کے کئی اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔

اعظم سواتی نے پی ٹی آئی کے 14 اگست پر احتجاج کا امکان مسترد کردیا

 18 سے 21 اگست کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، بشمول دیر، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور اور مردان میں وسیع پیمانے پر بارشیں ہوں گی، جن میں کہیں کہیں شدید سے بہت شدید بارش بھی ہو سکتی ہے۔جنوبی اضلاع، بشمول بنوں، لکی مروت، وزیرستان، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی وقفے وقفے سے بارش کے ساتھ کہیں کہیں تیز بارش کے امکانات ہیں۔پنجاب میں، بشمول اسلام آباد/راولپنڈی، مری، گلیات، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد میں 18 سے 21 اگست کے دوران موسلا دھار بارشیں ہوں گی، جبکہ جنوبی اضلاع میں کہیں کہیں ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے۔بلوچستان کے بعض حصے، بشمول بارکھان، ژوب، خضدار، گوادر اور پنجگور، اور سندھ کے کئی اضلاع، بشمول کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور تھرپارکر میں 18 سے 22 اگست کے دوران بارشیں متوقع ہیں۔

مون سون بارشوں کے ساتویں سپیل  کا الرٹ جاری،کل سے 15 اگست تک کن شہروں میں شدید بارش کا امکان ہے ؟ جانیے

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ 15 سے 21 اگست کے دوران خیبر پختونخوا، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب اور آزاد کشمیر کے مقامی ندی نالوں میں اچانک طغیانی آ سکتی ہے، جبکہ 18 سے 21 اگست کے دوران ڈیرہ غازی خان اور مشرقی بلوچستان میں پہاڑی سلسلوں سے آنے والے ریلوں کا خطرہ ہے۔اسی مدت میں اسلام آباد/راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، پشاور اور نوشہرہ کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ رہے گا۔خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے سڑکیں بند ہوسکتی ہیں، جبکہ موسلا دھار بارش، تیز آندھی اور بجلی گرنے سے کمزور ڈھانچوں جیسے کچے مکانات کی دیواریں، چھتیں، بجلی کے کھمبے، اشتہاری بورڈز، گاڑیاں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے عوام، مسافروں اور سیاحوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر حساس علاقوں کا سفر نہ کریں اور تازہ ترین موسمی صورتحال سے باخبر رہیں۔

بھارت، 14 سالہ لڑکی سے 200 افراد کی زیادتی

تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے ہائی الرٹ پر رہیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سے 21 اگست کے دوران خیبر پختونخوا محکمہ موسمیات علاقوں میں کہیں کہیں

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے