پاک فوج کے سربراہان کا یوم استحصال پر کشمیری عوام سے بھرپور اظہار یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاک فوج کے سربراہان نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، نیول چیف اور ایئر چیف نے بھی کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کشمیریوں کی جدوجہد اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہے، بھارت کا کشمیر پر غیر قانونی قبضہ بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں 10 اگست تک بارشوں کا امکان
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا مزید کہنا ہے کہ بھارت کے جابرانہ اقدامات خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کشمیری عوام پاک فوج کے
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔