واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھارت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں مسلسل ہٹ دھرمی دکھا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ اور بھارت سمیت کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے ابھی مکمل ہونا باقی ہیں۔ ان کے مطابق، امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اکتوبر کے آخر تک مذاکرات کو حتمی شکل دے گی، تاہم بھارت کا رویہ رکاوٹ بن رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکی حکام اگلے دو سے تین ماہ میں چینی حکام سے ملاقات کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کے مستقبل پر بات ہوگی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران صورتحال بگڑ سکتی تھی، لیکن امریکی قیادت کی بروقت کوششوں سے ممکنہ تباہی کو ٹال دیا گیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے ساتھ امریکا کے تعلقات مضبوط ہیں اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے تعاون جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے، جس کے بعد مجموعی امریکی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو