دوبارہ حرکت پر وہ سبق سکھائیں گے بھارت کانوں کو ہاتھ لگائے گا: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہبازشریف نے نوجوانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتا ہوں۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے تاریخ کا رخ بدلا۔ قائداعظم کی قیادت میں پاکستان کی تحریک میں لاکھوں مسلمانوں نے حصہ لیا۔ بھارت پاکستان کے حصے کا ایک بوند بھی پانی نہیں چھین سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت پاکستان کے حصے کا پانی نہیں روک سکتا۔ ہم نے بھارت کے 6 طیارے گرائے جن میں 4 رافیل تھے۔ زندگی کے ہر طبقہ سے لوگ تحریک پاکستان میں شامل تھے۔ اقلیتی بہن بھائی بھی تحریک پاکستان میں شامل تھے۔ چھ اور 10 مئی کے بعد ایک نیا پاکستان وجود میں آ چکا ہے۔ پاک فوج نے بھارت کو عبرتناک سبق سکھایا۔ پاک فوج کے جوان جب میدان جنگ میں نکلے تو ماؤں نے کہا پاکستان کا جھنڈا بلند کرنا، جان دے دینا لیکن دشمن کو زیر کرکے آنا۔ بھارت نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو وہ سبق سکھائیں گے کہ کانوں کو ہاتھوں لگاؤ گے۔ ہمارے جوانوں نے بہادری اور جرأت سے دشمن کا مقابلہ کیا۔ تعلیم، صحت، دفاع پاکستان میں اقلیتوں کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ بھارت کا عسکری غرور 10 مئی کو غرق ہو گیا۔ انہوں نے مزید کہا پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ملکی ترقی کیلئے میرٹ پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔ ہونہار طلباء کو میرٹ پر ایک لاکھ لیپ ٹاپ دیئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ جشن آزادی پر قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ تحریک پاکستان میں اقلیتی برادری نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ تعلیم، صحت اور دفاع پاکستان میں اقلیتوں کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ہنگامی موسمی صورتحال میں خطرے سے دوچار علاقے کے لوگوں کے لئے پیشگی آگاہی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارشوں و سیلابی صورتحال کے متاثرین کی مدد و بحالی میں این ڈی ایم اے صوبوں کے ساتھ تعاون مزید مربوط بنائے۔ وزیراعظم آفس کی میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے یہ ہدایت منگل کو یہاں این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے گفتگو کرتے ہوئے کی جنہوں نے یہاں وزیراعظم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیراعظم کو ملک میں حالیہ بارشوں و سیلاب کے متاثرین کیلئے جاری امدادی سرگرمیوں و آئندہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی تیاری کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم کو ان کی ہدایت پر گلگت بلتستان میں پیشگی اطلاع کے نظام کو مکمل فعال بنانے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اس حوالے سے تعاون پر پیش رفت سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ حالیہ بارشوں و سیلابی صورتحال کے متاثرین کی مدد و بحالی میں این ڈی ایم اے صوبوں کے ساتھ تعاون مزید مربوط بنائے اور موسم کی صورتحال و ایسی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر خطرے سے دوچار علاقے کے لوگوں کو پیشگی آگاہی یقینی بنائی جائے۔ ادھر شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کے سولر پاور منصوبے کو ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے کی خود نگرانی کروں گا۔ ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے زیادہ سے زیادہ قابل تجدید ذرائع کو انرجی مکس میں شامل کرنا ہوگا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبے سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کو گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبے پر پیش رفت اور لائحہ عمل سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے منصوبے کی تعمیر کیلئے قائم سٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر بجلی سردار اویس احمد خان لغاری کو سونپ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت گلگت میں 6، سکردو میں 8 اور دیامر میں 6 سولر پارکس بنائے جائیں گے۔ اسی طرح گلگت میں 234، سکردو میں 179 اور دیامر میں 68 عمارتوں پر سولر سسٹم کی تنصیب یقینی بنائی جائے گی۔ منصوبے میں بیٹریوں کی تنصیب سے بیک اپ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کا بھی نظام بنایا جا رہا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے میں بین الاقوامی معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس کو منصوبے کی تعمیری لاگت اور معینہ مدت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے منصوبے کو ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کم لاگت ماحول دوست بجلی کی بلاتعطل فراہمی کیلئے منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کا سارا انفراسٹرکچر کلائیمیٹ ریزیلئینٹ بنایا جائے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ایکنک کی جانب سے حال ہی میں منظوری کے بعد منصوبے کی تعمیر پر کام کی رفتار کو مزید تیز کر دیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ منصوبے پر خرچ ہونے والی تمام لاگت وفاقی حکومت دے گی۔ گلگت سے اندھیروں کو دور کرنے کیلئے یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے نجات اور دو دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی کیلئے سولرائزیشن سب سے موزوں حل ہے۔ منصوبہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو کم لاگت اور ماحول دوست بجلی فراہم کرے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے زیادہ سے زیادہ قابل تجدید ذرائع کو انرجی مکس میں شامل کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان میں ہائیڈل اور سولر ذرائع سے بجلی کی فراہمی کو اس طرح یقینی بنایا جائے جس سے لوگوں کو شدید موسم میں بجلی کے تعطل سے نجات ملے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ منصوبے کی تعمیر میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ تمام اقلیتوں کو گزشتہ روز منائے گئے اقلیتوں کے قومی دن کی مناسبت سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی کنجی قوم کے زندہ ستاروں کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 اگست کی آمد آمد ہے، تحریک پاکستان میں لاکھوں مسلمانوں نے حضرت قائد اعظم کی عظیم لیڈرشپ میں حصہ لیا جس میں نوجوان، انجینئرز، ڈاکٹرز، علماء کرام سمیت ہر طبقہ شامل تھا، ہمارے اقلیتی بھائیوں اور بہنوں نے بھی تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور ان کا نہ صرف قیام پاکستان میں بڑا کردار ہے بلکہ تعمیر پاکستان میں بھی ان کا نمایاں کردار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ایک نیا پاکستان معرض وجود میں آ چکا ہے، آج دشمن پر یہ واضح کر دوں کہ اگر تم ہمارا پانی بند کرنے کی دھمکی دیتے ہو تو یہ بات ذہن میں رکھنا کہ پانی کی ایک بوند بھی تم پاکستان سے چھین نہیں سکتے۔ اگر تم نے یہ حرکت کی تو دوبارہ تمہیں وہ سبق سکھائیں گے کہ تم کانوں کو ہاتھ لگائو گے، پاکستان کا تم کبھی بھی بال بیکا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس پاکستان کو نوجوانوں نے تعمیر کرنا ہے۔ لیپ ٹاپ فار آل سکیم کے تحت بلاسود قسطوں پر لیپ ٹاپ فراہم کئے جائیں گے۔ اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے دوسرے علاقوں میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ باصلاحیت نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت کے بنیاد پر تقسیم کئے جائیں گے۔ انشاء اللہ یہی پالیسی پاکستان کو عظیم بنائے گی، محنت سے انشاء اللہ پاکستان عظیم بنے گا۔ شہبازشریف نے کہا کہ بھارت ہم سے پانچ گنا بڑا ملک ہے۔ نوجوانوں نے محنت اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پاکستان کو عظیم بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعظم نے کہا کہ تحریک پاکستان میں گلگت بلتستان میں منصوبے کی تعمیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو بنایا جائے کہ منصوبے کرتے ہوئے لوگوں کو اجلاس کو کے لوگوں جائیں گے انہوں نے کی ہدایت کے ساتھ لیپ ٹاپ کرنے کی
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب