شہید امت کا پیغام لبنان سے نکل کر دنیا بھر کیلیے مشعل راہ بن چکا ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
جیکب آباد پریس کلب کے سامنے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ آج بھی زندہ ہیں اور انکا مشن دنیا کے کروڑوں غیرت مند، باشعور اور حق پرست انسانوں کی صورت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے ظلم و بربریت کے باعث دنیا بھر میں تنہا ہو چکا ہے اور آج پوری دنیا کے عوام اس سے نفرت کرتے ہیں۔ دنیا نتن یاھو اور اسرائیلی ریاست کو فرعون اور یزید کی طرح ایک ظالم سمجھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہون نے جیکب آباد پریس کلب کے سامنے شہید سید حسن نصر اللہ کی پہلی برسی کے موقع پر نکالی گئی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کی عملی حمایت کریں اور بحر سے نہر تک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اقدامات کریں۔
علامہ مقصود ڈومکی نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جاری قتل عام اور مصنوعی قحط کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں بعض طاقتور ممالک کے پاس ویٹو پاور کا ہونا افسوسناک ہے، امریکہ نے ہمیشہ اس اختیار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کو تحفظ دیا ہے اور یوں وہ غزہ کے نہتے عوام کے قتل عام میں برابر کا شریک ہے۔ علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ شہید امت کا پیغام لبنان کی سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر کے مظلوموں اور حق پرستوں کے لیے مشعل راہ بن چکا ہے۔ شہید سید آج بھی زندہ ہیں اور ان کا مشن دنیا کے کروڑوں غیرت مند، باشعور اور حق پرست انسانوں کی صورت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ سید حسن آج ایک عالمی رہبر اور عالمگیر شخصیت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ڈومکی نے
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔