data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک:۔ بنگلہ دیشی عبوری صدر محمد یونس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ غزہ میں نسل کشی دن کی روشنی میں اور سب کے سامنے ہورہی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیشی صدر محمد یونس نے مزید کہا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے بین الاقوامی انکوائری کمیشن کی اس رپورٹ سے اتفاق کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیاں واضح طور پر نسل کشی ہیں اور یہ سب کچھ پوری دنیا کے سامنے براہِ راست ہورہا ہے۔ بنگلادیشی صدر محمد یونس نے کہا کہ بدقسمتی سے انسانیت کی جانب سے اس جارحیت کو روکنے کے لیے ہم وہ کچھ نہیں کر رہے جو ضروری ہے۔

صدر یونس نے مزید کہا اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ آنے والی نسلیں اور نہ ہی تاریخ ہمیں معاف کرے گی۔ ہم واقعی ایک نسل کشی کو براہِ راست دیکھ رہے ہیں۔بنگلادیشی صدر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کی جانیں بچائی جا سکیں اور انسانی المیہ مزید نہ بڑھے۔

صدر محمد یونس نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے یارو مددگار تارکین وطن بڑی تعداد میں بنگلادیش آرہے ہیں۔ بنگلادیشی صدر نے عالمی برادری اور قوتوں سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کے لیے حل اپنا کردار ادا کریں۔

Aleem uddin.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صدر محمد یونس نے کہا کہ

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان