اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 27 ستمبر 2025ء) بھوٹان کے وزیراعظم تھاشرنگ ٹوبگے نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل دونوں طرح کے ارکان کی تعداد میں توسیع ہونی چاہیے تاکہ انڈیا اور جاپان جیسے حق دار ممالک کے ساتھ دیگر باصلاحیت اور قائدانہ کردار ادا کرنے والے ممالک کو بھی نمائندگی ملے اور دور حاضر کے پیچیدہ حقائق کی درست عکاسی ہو سکے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں عام مباحثے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ادارے میں اصلاحات کا مطلب اقوام متحدہ کو موسمیاتی بحران کی صورت میں دور حاضر کے بہت بڑے مسئلے سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھوٹان کو فخر ہے اس کے ہاں کاربن کا اخراج نہیں ہوتا اور ملک ہر سال جتنی کاربن خارج کرتا ہے اس سے پانچ گنا زیادہ جذب کر لیتا ہے۔

(جاری ہے)

لیکن ان کوششوں کے باوجود، ملک کو گرم ہوتے پہاڑوں، پگھلتے گلیشیئروں اور ان دریاؤں کا سامنا ہے جو کبھی خطرناک سیلاب لاتے ہیں اور کبھی موسم سرما میں خشک سالی کا باعث بنتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی دور کا خطرہ نہیں ہے بلکہ دنیا میں موجود ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔

موسمیاتی مسائل کا قدرتی حل

وزیراعظم نے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ صرف بھوٹان، پاناما، سورینام اور مڈغاسکر ہی کاربن نیوٹرل ہیں۔

انہوں نے 2024 میں قائم ہونے والے 'جی-زیرو فورم' کا حوالہ دیا جس کا مقصد ماحولیاتی عزم میں تیزی لانا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ نیٹ زیرو کو آخری منزل نہیں ہونا چاہیے۔ ہر ملک کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا ہو گی، کاربن نیوٹرل بننا ہوگا اور موسمیاتی مسائل کے قدرتی حل تلاش کرنا ہوں گے۔

آخر میں، انہوں نے تمام لوگوں کو 'گلوبل پیس پریئر فیسٹیول' میں شرکت کی دعوت دی جو 4 سے 17 نومبر تک منعقد ہوگا جس میں روحانی اساتذہ، سکالر اور عملی شخصیات امن اور ہم آہنگی کی مشترکہ اپیل کے لیے جمع ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا