سیلا ب سے گلگت میں تباہی، شاہراہ ریشم بند، نالہ ڈیک پل، گجرات میں چناب کا بند بہہ گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
گلگت؍ لاہور؍ ظفر وال؍ سیالکوٹ؍ گجرات (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر+ نمائندگان+ نامہ نگار) دریائے ہنزہ پھر بپھر گیا۔ ریلوں نے تباہی مچا دی۔ جبکہ ظفر وال میں نالہ ڈیک کے بہاؤ میں اضافے سے پل بیٹھ گیا۔ پسرور اور گجرات میں بند ٹوٹ گئے۔ تفصیلات کے مطابق دریائے ہنزہ پھر بپھر گیا۔ گلگت اور گوجال کے مقام پر سیلابی ریلوں نے تباہی پھیر دی جبکہ پچاس سے زائد مزدور ریلے کی زد میں آنے سے بال بال بچے۔ حکومت گلگت کے ترجمان نے کہا کہ پہاڑی پتھر شاہراہ ریشم پر تواتر سے گرتے رہے۔ حکومت نے ہنزہ انتظامیہ کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ بلتستان کے علاقہ شگر میں اراضی اور درخت ریلوں میں بہہ گئے۔ ہنزہ کے مقام پر شاہراہ ریشم بلاک ہو گئی جس کے نتیجے میں مسافر پھنس گئے۔ واٹر چینل کی بحالی کے دوران اچانک سیلاب آیا جس کے نتیجے میں 50 مزدوروں نے بھاگ کر جانیں بچائیں۔ دریں اثناء بھارت کی جانب سے آئندہ 2 روز میں دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر سیلاب نچلے درجے سے معمول پر آ گیا۔ دریائے ستلج کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے ساتویں سپیل کے بارے میں الرٹ جاری کر دیا۔ 13 سے 15 اگست کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ ظفروال میں نالہ ڈیک میں پانی کی سطح میں اضافہ سے ہنجلی پل بیٹھ گیا، جس کے بعد ظفر وال تا سیالکوٹ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ موضع منگوال اور موضع لہڑی کے مقام سے نالہ ڈیک کا سیلابی پانی منگوال اور گردو نواح کے کھیتوں میں داخل ہو گیا جبکہ پسرور کے علاقہ مندی پور میں نالہ ڈیک کا بند ٹوٹنے سے کھیتوں میں پانی داخل ہو گیا۔ گجرات میں دریائے چناب کا درجنوں دیہات کو محفوظ بنانے والا 40 فٹ اونچا حفاظتی بند پانی میں بہہ گیا جس سے ملحقہ درجنوں دیہاتوں شیخ چوگانی، سرخ پور، کوٹ نکہ، کوٹ غلام، چوپالہ، شہباز پور، موہلہ، کوٹ نتھو کولوال، سماں سمیت کئی علاقوں کا متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دریں اثناء ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا اور اسسٹنٹ کمشنر ظفروال کے ہمراہ متاثرہ پل کا دورہ کیا، نالہ ڈیک میں طغیانی سے زمین میں دھنسنے والے چہور بریج کے دو پلر کی مرمت کیلئے ہنگامی اقدامات جاری کر دئیے۔ جستی والا گاؤں کے پاس حفاظتی بند میں کٹائو کی جگہ ایکسین ایریگیشن نارووال کہ زیر نگرانی آپریشن جاری، جستی والا بند کو درختوں کے تنے، پتھر اور مٹی ڈال کر محفوظ بنا دیا گیا۔ دریں اثناء لاہور کے کئی علاقوں میں ہلکی بارش اور بوندا باندی سے موسم خوشگوار ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کا خدشہ ہے کے مقام پر
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔