گلگت؍ لاہور؍ ظفر وال؍ سیالکوٹ؍ گجرات (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر+ نمائندگان+ نامہ نگار) دریائے ہنزہ پھر بپھر گیا۔ ریلوں نے تباہی مچا دی۔ جبکہ ظفر وال میں نالہ ڈیک کے بہاؤ میں اضافے سے پل بیٹھ گیا۔ پسرور اور گجرات میں بند ٹوٹ گئے۔ تفصیلات کے مطابق دریائے ہنزہ پھر بپھر گیا۔ گلگت اور گوجال کے مقام پر سیلابی ریلوں نے تباہی پھیر دی جبکہ پچاس سے زائد مزدور ریلے کی زد میں آنے سے بال بال بچے۔ حکومت گلگت کے ترجمان نے کہا کہ پہاڑی پتھر شاہراہ ریشم پر تواتر سے گرتے رہے۔ حکومت نے ہنزہ انتظامیہ کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ بلتستان کے علاقہ شگر میں اراضی اور درخت ریلوں میں بہہ گئے۔ ہنزہ کے مقام پر شاہراہ ریشم بلاک ہو گئی جس کے نتیجے میں مسافر پھنس گئے۔ واٹر چینل کی بحالی کے دوران اچانک سیلاب آیا جس کے نتیجے میں 50 مزدوروں نے بھاگ کر جانیں بچائیں۔ دریں اثناء  بھارت کی جانب سے آئندہ 2 روز میں دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر سیلاب نچلے درجے سے معمول پر آ گیا۔ دریائے ستلج کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے ساتویں سپیل کے بارے میں الرٹ جاری کر دیا۔  13 سے 15 اگست کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ ظفروال  میں نالہ ڈیک میں پانی کی سطح میں اضافہ سے  ہنجلی پل بیٹھ گیا، جس کے بعد ظفر وال تا سیالکوٹ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔  موضع منگوال اور موضع لہڑی کے مقام سے نالہ ڈیک کا سیلابی پانی منگوال اور گردو نواح کے کھیتوں میں داخل  ہو گیا جبکہ  پسرور کے علاقہ مندی پور میں نالہ ڈیک کا بند ٹوٹنے سے کھیتوں میں پانی داخل ہو گیا۔ گجرات میں دریائے چناب  کا  درجنوں دیہات کو محفوظ بنانے والا 40 فٹ اونچا حفاظتی بند پانی میں بہہ گیا جس سے ملحقہ درجنوں دیہاتوں شیخ چوگانی، سرخ پور، کوٹ نکہ، کوٹ غلام، چوپالہ، شہباز پور، موہلہ، کوٹ نتھو کولوال، سماں سمیت کئی علاقوں کا متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دریں اثناء ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا اور اسسٹنٹ کمشنر ظفروال کے ہمراہ متاثرہ پل کا دورہ کیا، نالہ ڈیک میں طغیانی سے زمین میں دھنسنے والے چہور بریج کے دو پلر کی مرمت کیلئے ہنگامی اقدامات جاری کر دئیے۔ جستی والا گاؤں کے پاس حفاظتی بند میں کٹائو کی جگہ ایکسین ایریگیشن نارووال کہ زیر نگرانی آپریشن جاری، جستی والا بند کو درختوں کے تنے، پتھر اور مٹی ڈال کر محفوظ بنا دیا گیا۔ دریں اثناء لاہور کے کئی علاقوں میں ہلکی بارش اور بوندا باندی سے موسم خوشگوار ہوگیا۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کا خدشہ ہے کے مقام پر

پڑھیں:

لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی

لاہور: (ویب ڈیسک) بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی، لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔

نجی ٹی وی چینل’’ دنیا نیوز‘‘ کے مطابق ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہور کی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی، فہرست کےمطابق لاہور کو 9 ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔

ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں، 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائے گا، تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست 2026 کو جاری ہوگی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا