اسلام آباد (خبر نگار خصوصی )نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت پاکستانی بندرگاہوں کی آپریشنل کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں  بندرگاہوں پر تجارتی سامان کے رش میں کمی، تجارتی سہولت کے استحکام اور درآمدات، برآمدات سمیت مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کی معاونت کے لیے لاجسٹک نظام کی بہتری کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران  کارکردگی کے فروغ، ٹرن ارائونڈ ٹائم کو کم کرنے اور کارگو کی آسان ہینڈلنگ کو یقینی بنانے کے لیے تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری ریلوے، این سی ایس آئی ایف سی، ڈی جی این ایل سی، اے ایس میری ٹائم افیئرز اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔ دریں اثناء نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدار دوست ممالک کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے جائزہ اجلاس منگل کو یہاں وزارت خارجہ میں منعقد ہوا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران دوست ممالک کے ساتھ باہمی رابطوں کی وسعت کے اقدامات کی نشاندہی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری، تعلیم، صحت، روابط، ثقافت اور زراعت سمیت وسیع شعبوں کا احاطہ کرنے والی متعدد تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔  سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس آف پاکستان (آئی سی اے پی) کے 400 ویں کونسل اجلاس میں شرکت کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار کا جائزہ کے لیے

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ