سانحہ سوات پر اجلاس، سیلاب کے دوران لائف جیکٹس اور رسیوں کی ترسیل کے لیے ڈرونز خریدنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات پر سوات میں چیف سیکرٹری کی قیادت میں اجلاس ہوا جس میں آئندہ سیلاب سے وابستہ حادثات سے بچنے کے اقدامات کرنے کرنے کا فیصلہ ہوا۔
ترجمان وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں صوبائی وزرا، ترجمان وزیراعلیٰ، ایم پی ایز اور اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔
دوران اجلاس جائے حادثے پر پولیس کی غیر موجودگی پر ایس پی سے وضاحت طلب کی گئی اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: فضل الرحمان جلد کے پی حکومت کا جنازہ پڑھائیں گے، جے یو آئی کا سانحہ سوات پر وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ
اجلاس میں ریسکیو1122 کو سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے درکار مختلف سامان کی کمی کو دور کرنے اور لائف جیکٹس اور رسیوں کی ترسیل کے لیے ڈرونز خریدنے کا فیصلہ ہوا۔
شرکا نے موقع پر کشتیاں کی غیر موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا جلد تمام ضروری سامان مکمل کرنے کی ہدایات دیں۔
سوات میں دریا کے کنارے بیریئرز نصب کرنے، سیاحتی مقامات پر روزانہ کی بنیاد پر پٹرولنگ بڑھانے، دریا کنارے قانونی و غیر قانونی مٹی نکالنے کی سرگرمیاں کو فوری بند کرنے اور دریائے سوات سمیت مختلف مقامات پر تجاوزات کو بلا تفریق ختم کرنے کے احکامات جاری کیے۔
یہ بھی پڑھیے: دریائے سوات کے طوفانی ریلے میں بہہ جانے والے 11 افراد کی نعشیں نکل لی گئیں
اس موقع پر محکمہ آبپاشی کو ہائی الرٹ پر رہنے اور پیشگی اقدامات یقینی بنانے، بغیر اجازت تعمیر شدہ ہوٹلز کو فوری ختم کرنے اور دریا کے قریب قائم ہوٹلز کے لیے این او سی لازمی قرار دینے کا فیصلہ ہوا۔
دوسری طرف صوبائی حکومت نے سانحہ سوات پر کارروائی کرتے ہوئے سانحہ سوات ڈپٹی کمشنر سوات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سلیم جان سوات کے نئے ڈپٹی کمشنر مقرر کیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمرجنسی ڈرونز سانحہ سوات سوات سیلاب 2025 سیلاب قدرتی آفات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمرجنسی سانحہ سوات سوات سیلاب 2025 سیلاب قدرتی ا فات کا فیصلہ ہوا سانحہ سوات کے لیے
پڑھیں:
سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔