ہائیکورٹ ججز کی کارکردگی جانچنے کیلئے رولز، محفوظ فیصلہ 90 روز میں لازمی سنانے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
ہائیکورٹ ججز کی کارکردگی جانچنے کیلئے رولز، محفوظ فیصلہ 90 روز میں لازمی سنانے کی تجویز WhatsAppFacebookTwitter 0 26 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )ہائی کورٹ ججوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے رولز کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں محفوظ فیصلہ 90 روز کے اندر سنانا لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، ذرائع نے بتایا کہ اجلاس تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہا۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں ہائی کورٹ کے ججوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے طریقہ کار اور مختلف رولز پر مشاورت ہوئی۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں محفوظ فیصلے 90 روز کے اندر لازمی سنانے کی تجویز شامل کی گئی ہے، کاز لسٹ میں شامل مقدمات روز نمٹانے کو جج کی کارکردگی سے منسلک کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ذرئع نے مزید بتایا کہ اجلاس میں تمام اراکین کو تحریری تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر بھارتی میڈیا کے سوال پر وزیراعظم کا کرارا جواب جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر بھارتی میڈیا کے سوال پر وزیراعظم کا کرارا جواب بھارت میں آئی لو محمد ۖ کہنا بھی جرم بنا دیا گیا، بریلی میں پولیس مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی ڈی جی آئی ایس پی آر کی جامعہ عرو الوثقی کے علما اور طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا؛ وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب سی ڈی اے کا کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ تمام یرغمالی رہا کرو تو زندہ رہو گے ورنہ مار دیئے جاو گے، نیتن یاہو کی حماس کو دھمکیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی کارکردگی جانچنے بتایا کہ اجلاس اجلاس میں کی تجویز گئی ہے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔