data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: پنجاب میں ہفتے کے روز مون سون کی بارشوں کے دوران مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد گزشتہ 4 دنوں میں ہونے والی اموات کی تعداد 14 ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق ریسکیو حکام اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بتایا کہ بدھ سے اب تک صوبے بھر میں مختلف بارش سے متعلق واقعات میں 12 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 8 بچے شامل ہیں جب کہ 39 افراد زخمی ہوئے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق لاہور کے شاہدرہ ٹاؤن کے عباس نگر علاقے میں آج صبح 3:20 بجے ایک مکان کی چھت گرنے سے 2 افراد جاں بحق جب کہ 4 زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ مکان ایک منزلہ تھا اور چھت مٹی کی بنی ہوئی تھی، لاشوں کو شاہدرہ ہسپتال منتقل کیا گیا جب کہ زخمیوں کو شاہدرہ اور میو ہسپتال لے جایا گیا۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ بدھ سے جمعہ تک مختلف شہروں میں 25 واقعات رپورٹ ہوئے جو آج بڑھ کر 28 ہو گئے، زیادہ تر واقعات شدید بارشوں کے باعث دیواریں اور چھتیں گرنے کی وجہ سے پیش آئے، جو چار روز میں ان اموات کی وجہ بنے۔

قصور میں چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق ہوئے جب کہ دیوار گرنے کے ایک واقعے میں 2 مزید بچوں کی جان گئی۔ اوکاڑہ، بہاولنگر اور فیصل آباد میں ایک ایک بچہ چھت گرنے کے واقعات میں جاں بحق ہوا۔وزیرآباد میں دیوار گرنے سے ایک مرد اور ایک بچہ جاں بحق جب کہ ایک خاتون اور ایک بچہ زخمی ہوئے۔

پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق جہلم میں ’بارش کے پانی کے نالے‘ میں ڈوب کر 2 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ ایک لوڈر رکشہ بارش کے پانی سے بھرے نالے میں جاگرا۔ خانیوال میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعے کا بھی ذکر کیا گیا جس میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔

جن دیگر اضلاع میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں ان میں منڈی بہاؤالدین، ساہیوال، چنیوٹ، ملتان، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب شامل ہیں۔ علیحدہ طور پر رحیم یار خان میں ایک درخت گرنے سے ایک گائے ہلاک ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افراد جاں بحق

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد