Express News:
2026-06-03@05:36:57 GMT

لارنس آف عربیہ سے غزہ تک

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس، عرف لارنس آف عربیہ ایک ایسا کردار جس کو انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت سلطنت عثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس مشن کے لیے پہلے لارنس عربیہ نے برطانیہ کے لیے جاسوسی کی، مقامی لوگوں کو غداری کے لیے خریدا مگر اس کامیابی پر بھی بس نہ کیا اور جلد بھرپور نتائج کے حصول کے لیے کام شروع کردیا۔

ظاہری طور پر اسلام قبول کیا، عرب بدووں میں پیسے تقسیم کیے، ان کا اعتماد حاصل کیا یہاں تک کہ ان کی نظروں میں ہیروکا مقام حاصل کر لیا، پھر گورنر مکہ حسین ہاشمی تک رسائی حاصل کی۔ تمام عربوں کو ظاہرکیا کہ وہ ان کا خیر خواہ ہے اور عرب قوم کی بہتری چاہتا ہے۔

عربوں کو یہ ذہین نشین کراتا رہا کہ وہ ایک عظیم قوم ہی نہیں ہیں بلکہ اس خطے میں حکمرانی کے درست معنوں میں حقدار ہیں انھیں ترکوں پر فضیلت بھی حاصل ہے جب کہ ترک بلاوجہ سلطنت عثمانیہ کے نام پر عربوں پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ لارنس کی ترکوں کے خلاف یہ نفرت رفتہ رفتہ جڑ پکڑگئی اور ایک وقت وہ آگیا کہ عرب ترکوں کے خلاف لڑنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔

اس کے بعد دوسرے ہدف میں ترکوں کے خلاف گوریلا کارروائیوں کو آغاز کر دیا گیا جس میں لارنس نے اہم ترین کردار ادا  کیا جس کی وجہ سے مقامی عربوں نے لارنس کو ’’ امیر ڈائنا میٹ‘‘ کا لقب دیا۔ لارنس نے ترکوں اور عربوں کو تقسیم کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی اور عربوں کو آزادی کا خواب دکھایا جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوا مگر برطانیہ نے اس سے بھی آگے بڑھ کرکام دکھا دیا۔

سلطنت عثمانیہ کو تقسیم در تقسیم کر دیا چنانچہ آج ہمیں دنیا کے نقشے پر اس خطے میں بے شمار مسلم ریاستیں نظر آتی ہیں، یوں جو مسلم آبادیاں ایک امت کے نام پر یکجان تھی ان کے درمیان نہ صرف سرحدوں کی خلیج قائم کردی گئی بلکہ قوم، وطن پرستی اور فرقہ واریت کی خلیج بھی نہایت ہوشیاری کے ساتھ قائم کردی گئی۔ رفتہ رفتہ وطنیت کا تصور جہاں دنیا بھر میں مضبوط ہوا، مسلم دنیا میں بھی اپنی جڑیں جماتا چلا گیا۔

ان تمام خلیجوں میں امت مسلمہ کے نقطہ نظر سے سب سے خطرناک خلیج قوم پرستی اور وطن پرستی کی ثابت ہوئی گوکہ شیعہ سنی اختلافات کو ہو ا دینے کے لیے مخالفین نے بے تحاشہ دولت خرچ کی مگر غزہ کے مسئلے پر اور ایران اسرائیل جنگ کے مسئلہ پر یہ خلیج دم توڑ تی دکھائی دی۔ مثلاً حزب اللہ، غوثی اور ایران نے حماس کی جس طرح مددکی، اس نے مسلم دنیا میں شیعہ سنی کی خلیج کو کم کیا اور جب اسرائیل نے ایران پر حملہ  کیا تو پاکستان کے تمام سنی مسالک ایران کی نہ صرف حمایت میں کھڑے ہوگئے بلکہ اعلانیہ کہا کہ یہ ہم سب کی جنگ ہے۔

یہ وہ مواقع ہیں کہ جن میں پوری مسلم دنیا ایک ’’ امت ‘‘ کے طور پر ردعمل کرتی نظر آئی، لیکن اس سب کے باوجود قوم پر ستی یا وطنیت کا ’’بت‘‘ نہیں توڑا جا سکا جو تمام ہی مسلم ممالک میں مضبوط نظر آتا ہے جس کے تحت سب مسلم ممالک ’’ سب سے پہلے میں‘‘ پر قائم نظر آتے ہیں۔ غزہ کے مسلمان ہر وقت منتظر رہتے ہیں کہ کب کوئی مسلم ملک ان پر ہونے والے مظالم کو بطور امت اپنا سمجھتے ہوئے اسرائیل کا ہاتھ روکے گا؟ وہ خبریں سنتے ہیں کہ پاکستان کی فضائیہ بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر دنیا کی نمبر ون بن چکی ہے- ایران نے اسرائیل پر بمباری کر کے بھرکس نکال دیا ہے مگر وہ حسرت سے دیکھتے ہیں کہ کب کوئی ان کی جنگ بندی کرائے گا، کب کوئی ان اسرائیلی فوجیوں پر میزائل مارے گا جو ان تک پینے کا پانی بھی پہنچنے نہیں دے رہے بلکہ اپنی امداد کے نام پر روز درجنوں مسلمانوں کو گولیوں سے روزانہ بھون رہے ہیں۔

بات یہ ہے کہ عام مسلمان تو ان کی مدد ہر قیمت پر چاہتا ہے مگر مسلمان ممالک کی مقتدر قوتیں نظریہ وطنیت پر چل رہی ہیں۔ کوئی بھی غزہ کے لیے اپنی سرحدوں کی قسمت داؤ پر لگانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حالات گواہی دے رہے ہیں کہ آج مسلم دنیا نے مسلک اور فرقہ واریت کی دیوار کو توگرا دیا ہے مگر ’’ قوم پرستی یا وطنیت‘‘ کی دیوار قائم ہے۔ یہ ی دیوار مسلمانوں کی ایک ’امت‘ بننے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

جس دن یہ دیوار گرگئی، غزہ کے  لوگ تنہا نہیں رہیں گے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے جب سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا اور عربوں میں ترکوں کے خلاف جذبات دیکھے تو انھیں سخت افسوس ہوا علامہ اقبال وطنیت اور قومیت کو مسلمانوں کے لیے زہر قاتل سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے مسلمانوں کو ملت اسلامیہ کے تصورکی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ اقبال مغرب کے نظریہ وطنیت اور قومیت کو اسلام کے خلاف ہی نہیں انسانیت کا دشمن بھی سمجھتے تھے، اقبال قومیت کے اس تصور کے سخت خلاف تھے جس کی بنیاد رنگ، نسل، زبان یا وطن پر ہو، اس ضمن میں اقبال نے کہا۔

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں

جذب باہم جو نہیں، محفل انجم بھی نہیں

موجودہ صورتحال میں بھی اقبال کا یہ پیغام ہمیں آواز دے رہا ہے کہ

یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی

اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

بتان رنگ خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا

نہ تو رانی رہے باقی، نا ایرانی نہ افغانی

غور کیا جائے تو آج غزہ کے مسئلے کا حل بھی صرف اور صرف اس میں ہے کہ مسلمان وطنیت اور قوم پرستی کے مغربی تصورکو چھوڑ کر ایک اقبال کے تصور ملت یعنی امت کے تصورکو اپنا لیں،کیونکہ یہ مسئلہ بھی اس وقت ہی پیدا ہوا تھا جب مسلمان اس تصور سے نکل کر قوم پرستی اور وطن پرستی کے تصور میں گم ہوگئے تھے اور لارنس آف عربیہ جیسے کرداروں نے اس قوم پرستی کے تصورکو راہ نجات قرار دیا تھا لیکن آج غزہ میں پیاس سے بلکتے معصوم بچوں کی کہانیاں بتا رہی ہیں کہ غیروں کا یہ تصور سوائے بربادی کے کچھ بھی نہیں تھا۔غزہ میں جاری ظلم و ستم اور نسل کشی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید اقبال کا یہ پیغام ہمیں آج بھی یہ آواز دے رہا ہے۔

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو

اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا

یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی

تو اے شرمندہ ساحل، اچھل کر بے کراں ہو جا

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلطنت عثمانیہ ترکوں کے خلاف مسلم دنیا قوم پرستی عربوں کو کے تصور کے لیے ہیں کہ غزہ کے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا