پاکستان کے حصے کے 3 دریاؤں پر بھارت ڈیم نہیں بنا سکتا
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
تجزیہ کار شہباز رانا کا کہنا ہے کہ کافی دیر بعد اس قسم اس طرح کی خبر آئی ہے کہ اتنے بڑے پیمانے کا واقعہ ہوا ہے، یہ وہی ایک پرانے پیٹرن کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک سائیڈ سے اگر پاکستان کیلیے کوئی چیز بہتر ہوتی ہے تو پھر اس کے خون خرابے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام دی ریویو میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ملاقات ہوئی تھی تو چیزیں رائٹ ٹریک پر چلنا شروع ہو گئی تھیں، پاکستان میں موجود افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجنے کا عمل بھی سست ہو گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ یہ تنازع کافی عرصے سے چل رہا ہے، جو بنیادی طور پر یہ ہے کہ انڈس بیسن ٹریٹی کے تحت پاکستان کے حصے کے تین دریاؤں، سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت ڈیم نہیں بنا سکتا، بھارت نے وہاں پہ دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس بنائے تھے، پہلے انہوں نے باہمی طور پر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، 2016 میں پاکستان آربٹریشن کورٹ میں چلا گیا۔
اس کورٹ کی پروسیڈنگز کا حصہ بننے کے بجائے بھارت نے ورلڈ بینک سے نیوٹرل ایکسپرٹ اپوائنٹ کرنے کی درخواست کی، ورلڈ بینک نے 2022 میں نیوٹرل ایکسپرٹ کی تقرری کردی۔
تجزیہ کار کامران یوسف نے کہا کہ میر علی شمالی وزیرستان میں افسوس ناک واقعہ کے نتیجے میں وہاں متعدد شہادتیں ہوئی ہیں، مقامی اور سیکیورٹی ذرائع یہ بتا رہے ہیں کہ بارود سے بھری گاڑی کو بم ڈسپوزیبل یونٹ کی گاڑی سے ٹکرایا گیا، اسکی ذمے داری حافظ گل بہادر گروپ نے قبول کی ہے،چند ماہ میں جب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، اس کے بعد یہ پہلا اس طرح کا بڑا خودکش حملہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.