ایرانی عوام سے یکجہتی کے لیے ILFکا وفد کا ایرانی قونصلیٹ کراچی کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایرانی عوام اور قیادت سے غیر متزلزل یکجہتی کے اظہار کے لیے انٹرنیشنل لائرز فورم کے وفد نے اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصلیٹ کراچی کا دورہ کیا۔وفد میں چیئرمین انٹرنیشنل لائرز فورم ناصر احمد ایڈوکیٹ، ملا محمد امین انصاری، بانی صدر متحدہ علماء محاذ مولانا انتظار تھانوی اور دیگر معزز اراکین شامل تھے۔ اس موقع پر مولانا انتظار تھانوی نے ایرانی فوجی اور شہری شہداء کے درجات کی بلندی، ایران کی ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے دعا کی۔وفد نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی عظیم قیادت اور عالمی چیلنجز کے مقابلے میں ان کی غیر معمولی حکمت عملی کو سراہا۔پاکستانی عوام کی جانب سے انٹرنیشنل لائرز فورم کے چیئرمین ناصر احمد نے ایرانی قونصل جنرل کو یکجہتی کا باضابطہ پیغام پیش کیا، جس میں کہا گیا’’پاکستان اور ایران کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بطور پڑوسی قوم ہم ایران کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اسرائیل اور اس کے حمایتیوں کے حالیہ جارحانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہم ایرانی قونصلیٹ کے توسط سے ایرانی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس آزمائش میں تنہا نہیں ہیں۔ ہم اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور ان اسلامی ممالک کے کردار کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں جو اسرائیل سے دوستانہ تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے تمام اسلامی ممالک فوری طور پر اسرائیل سے اپنے سفارتی و اقتصادی تعلقات منقطع کریں۔اس موقع پر ایرانی قونصل جنرل اصغر وحیدی نے وفد کے دورے اور اظہارِ یکجہتی پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام صہیونی سازشوں اور مغربی میڈیا کے منفی کردار سے بخوبی واقف ہیں۔ کراچی میں ایران کے حق میں نکالی گئی احتجاجی ریلیاں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہم اس وفد کی آمد اور ان کے خلوص کے اظہار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ دورہ باہمی احترام اور پاکستان و ایران کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کے اعادے پر ختم ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرتے ہیں ایران کے کے عوام
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں