data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایرانی عوام اور قیادت سے غیر متزلزل یکجہتی کے اظہار کے لیے انٹرنیشنل لائرز فورم کے وفد نے اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصلیٹ کراچی کا دورہ کیا۔وفد میں چیئرمین انٹرنیشنل لائرز فورم ناصر احمد ایڈوکیٹ، ملا محمد امین انصاری، بانی صدر متحدہ علماء محاذ مولانا انتظار تھانوی اور دیگر معزز اراکین شامل تھے۔ اس موقع پر مولانا انتظار تھانوی نے ایرانی فوجی اور شہری شہداء کے درجات کی بلندی، ایران کی ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے دعا کی۔وفد نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی عظیم قیادت اور عالمی چیلنجز کے مقابلے میں ان کی غیر معمولی حکمت عملی کو سراہا۔پاکستانی عوام کی جانب سے انٹرنیشنل لائرز فورم کے چیئرمین ناصر احمد نے ایرانی قونصل جنرل کو یکجہتی کا باضابطہ پیغام پیش کیا، جس میں کہا گیا’’پاکستان اور ایران کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بطور پڑوسی قوم ہم ایران کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اسرائیل اور اس کے حمایتیوں کے حالیہ جارحانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہم ایرانی قونصلیٹ کے توسط سے ایرانی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس آزمائش میں تنہا نہیں ہیں۔ ہم اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور ان اسلامی ممالک کے کردار کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں جو اسرائیل سے دوستانہ تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے تمام اسلامی ممالک فوری طور پر اسرائیل سے اپنے سفارتی و اقتصادی تعلقات منقطع کریں۔اس موقع پر ایرانی قونصل جنرل اصغر وحیدی نے وفد کے دورے اور اظہارِ یکجہتی پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام صہیونی سازشوں اور مغربی میڈیا کے منفی کردار سے بخوبی واقف ہیں۔ کراچی میں ایران کے حق میں نکالی گئی احتجاجی ریلیاں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہم اس وفد کی آمد اور ان کے خلوص کے اظہار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ دورہ باہمی احترام اور پاکستان و ایران کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کے اعادے پر ختم ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرتے ہیں ایران کے کے عوام

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم