لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعلی مریم نواز نے ڈیرہ غازی خان میں الیکٹرو بس پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں بڑے اعلانات کیے۔ وزیر اعلی نے ڈیرہ غازی خان میں بھی میٹرو بس سروس لانے کا اعلان کیا ہے۔ ساؤتھ پنجاب میں ہر ماہ سیکرٹریٹ لگانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف نے ڈیرہ غازی خان ڈویژن کیلئے ایک سو ایک الیکٹرو بسیں لانے اور راجن پور، لیہ، مظفرگڑھ، تونسہ سمیت ہر ضلع میں الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلی نے سرائیکی زبان سے تقریر کا آغاز کیا اور کہاکہ ''تساں دے کول آ کے، بہوں خوشی تھئی اے، تہاکوں دیکھ کے ہاں ٹھر گیا اے ''۔ جہاں تخت لاہور ہے وہاں تخت بہاولپور، رحیم یار خان، ملتان اور تخت ڈیرہ غازی خان ہے۔ جنوبی پنجاب والوں نے عزت اور پیار سے چادر اوڑھائی، ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ الیکٹرو بس کیلئے ڈی جی خان والوں کی خوشی دیکھ کر حوصلہ بڑھ رہا ہے۔ اربوں خرچ ہو جائیں، ڈیرہ غازی خان کو نقصان نہیں ہونے دیں گے۔ وزیر اعلی، کابینہ اور پوری ٹیم جاگ رہی ہے، عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ پنجاب کے عوام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ مریم نوا پنجاب کے عوام کی طرف اٹھنے والی انگلی توڑ دے گی۔ پنجاب میں دوسرے صوبوں سے اڑھائی کروڑ افراد روزگار کیلئے مقیم ہیں۔ پنجاب کے ہسپتال دوسرے صوبوں کے عوام کیلئے کھلے ہیں۔ سندھ میں آفت آئے تو پنجاب ساتھ کھڑا ہو گا۔ زرداری میرے بزرگ اور بلاول چھوٹا بھائی ہے، مگر پیپلز پارٹی کے ترجمانو ں کو بھی سمجھائیں۔ سیلاب کے معاملے میں سیاست کی جا رہی ہے۔ میرے لیے ساؤتھ، سینٹرل اور اپر پنجاب میں کوئی فرق نہیں، سب برابر ہیں اور سب کی وزیر اعلی ہوں۔ سنیٹرل پنجاب میرے لیے ماہ نور کی طرح، اپر پنجاب مہرالنساء کی طرح اور جنوبی پنجاب میرے لیے جنید بیٹے کی طرح ہے۔ ساؤتھ اور سینٹرل پنجاب کی بات اقتدار کی ہوس رکھنے والے لوگ کرتے ہیں۔ ساؤتھ پنجاب میں سارے پراجیکٹ پاکستان مسلم لیگ (ن) لے کر آئی۔ نواز شریف موٹر وے اور ایکسپریس وے ساؤتھ پنجاب میں لائے۔ ساؤتھ پنجاب میں بلکہ ڈی جی خان میں پہلی الیکٹرک بس نوازشریف کی بیٹی لے کر آئی۔ سی ایم دفتر میں تصویر فریم میں لگا کر رکھنے کیلئے نہیں ہوتا عوام کے ساتھ ہونا چاہئے۔ جو ساؤتھ پنجاب کی بات کرتے ہیں انہوں نے اپنے دور میں دھیلے کا کام نہیں کیا۔ ساؤتھ پنجاب کو ان لوگوں کے دور میں کچھ نہیں ملا۔ منصوبے بڑے شہروں میں آ کر بڑے شہروں میں ختم ہوجاتے تھے۔ الیکٹرو بس لاہور، راولپنڈی یا فیصل آباد نہیں بلکہ میانوالی، وزیر آباد اور ڈی جی خان میں پہلے لانچ کی ہے۔ غذائی قلت کے شکار بچوں کیلئے پہلا پراجیکٹ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں شروع کیا۔ میرے وزیر سینٹرل پنجاب نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں بیٹھے رہے۔ ساؤتھ پنجاب کی بار بار بات کر کے لکیر کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے، میرے ذہن میں ایسا کوئی فرق نہیں۔ پہلے ڈی جی خان کے لوگ خوابوں پر گزارا کرتے تھے اب تعبیر ملتی ہے۔ مجھے فخر ہے بارڈر ملٹری پولیس میں پنجاب کی بیٹیاں یونیفارم پہن کر شریک ہیں۔ جو عوام کا خیال نہ رکھے، اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔ دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب آیا، تین ماہ مسلسل بارشیں ہوتی رہیں لیکن ہم نے تیاری کر رکھی تھی۔ میرے وزیر اور پوری ٹیم سیلاب کے دوران راشن تقسیم کرتی رہی اور خیمے لگواتی رہی۔ جب تک لوگوں کو کھانا اور ٹینٹ نہیں ملے، مریم اورنگزیب اور دیگر وزیر چین سے نہیں بیٹھے۔ بیرونی امداد مانگنے کا مشورہ اپنے پاس رکھیں، پنجاب اپنے وسائل سے خود انتظام کرے گا۔ نواز شریف کی بیٹی ہوں، امداد کیلئے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی۔ کب تک پاکستان دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہے گا۔ این ایف سی ایوارڈ سے اربوں کھربوں ہر صوبے کو مل رہے ہیں، وہ عوام پر خرچ نہیں کرنے تو کہاں کرنے ہیں۔ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ نہیں کرنا تو کہاں خرچ کریں گے۔ شہباز شریف سے ایک روپیہ نہ مانگا اور نہ لیا ہے۔ اربوں روپے سیلاب زدگان کے انخلا، ریسکیو اور ریلیف پر خر چ کر دیئے ہیں۔ سیلاب زدگان کو بی آئی ایس پی سے دس ہزار نہیں بلکہ دس لاکھ روپے تک دینا چاہتے ہیں۔ جس کا گھر گرا، مویشی مر گئے، فصلوں کا نقصان ہوا سب کے نقصان پورے کرنا چاہتی ہوں۔ جس کا لاکھوں کا نقصان ہوا وہ بی آئی ایس پی سے دس پندرہ ہزار لے کر کیا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ سمیت دیگر بڑے پراجیکٹ اپنے ہی وسائل سے چلا رہے ہیں۔ الیکٹرو بس جیسے پراجیکٹ کو نقصان پہنچانا، عوام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ میانوالی میں پتھر مار کر الیکٹرو بس کا شیشہ توڑنے والے کو پکڑ لیا ہے، نشان عبرت بنائیں گے۔ بس کا شیشہ توڑنے سے کسی مسافر کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ قبل ازیں مریم نواز نے ڈیرہ غازی خان کی تاریخ کی پہلی الیکٹرو بس کا افتتاح کردیا ہے۔ ڈی جی خان کے لوگ نئی اور جدید ترین الیکٹرو بس کا تحفہ پاکر خوش ہوئے۔ بلوچی پگڑی، رنگا رنگ ویسٹ اور مزین ٹوپی پہنے گورنمنٹ پرائمری سکول کے ننھے منے عبداللہ اور مریم جہانگیر نے وزیراعلی مریم نواز شریف کا خیر مقدم کیا اور پھول پیش کئے۔ ''مسافروں خاص طور پر سپیشل افراد کا بہت خیال رکھنا''۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے بس کنڈکٹر کو نصیحت، انعام بھی دیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے جیل روڈ بس سٹاپ سے تقریب گاہ کا سفر الیکٹرو بس میں کیا۔ راستے میں گل پاشی کی گئی۔ ستھرا پنجاب کے ورکرز نے وزیر اعلی مریم نواز شریف کیلئے خیر مقدمی بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ''سجن آ ون آکھی ٹھرن'' وزیر اعلیٰ مریم نواز۔۔ تم بے مثال ہو'' وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ہاتھ ہلا کر نعروں کا جواب دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اعلی مریم نواز شریف نے ڈیرہ غازی خان ساو تھ پنجاب میں الیکٹرو بس وزیر اعلی ڈی جی خان پنجاب کے پنجاب کی عوام کی

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • پنجاب میں عید پر صفائی آپریشن مثالی رہا، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، مریم اورنگزیب