Juraat:
2026-07-24@11:49:15 GMT

نہتے مسلمانوں پر یہودی فوج کے حملے 36 گھنٹوں میں 129 شہید

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

نہتے مسلمانوں پر یہودی فوج کے حملے 36 گھنٹوں میں 129 شہید

غزہ میں وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ، امداد کے منتظر بچوں و خواتین پر بزدلانہ کارروائیاں
دیر البلح ، المواسی ،خان یونس اور غزا سٹی کے دیگر رہائشی علاقوں میں حملے،مزید شہادتیں متوقع

اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری، گزشتہ36گھنٹوں کے دوران غزہ میں کم از کم129فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ شہدا میں خواتین، بچے اور امداد کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے شہری شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق27جون کو ابتدائی طور پر11افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی تھی، تاہم بعدازاں مختلف علاقوں سے مزید51لاشیں نکالی گئیں، جس کے بعد اس دن کی مجموعی شہادتیں62ہو گئیں۔ادھر28جون کو دن کے آغاز سے لے کر دوپہر تک جاری بمباری اور ڈرون حملوں میں مزید59سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ بعض بین الاقوامی ذرائع کے مطابق یہ تعداد 78تک پہنچ چکی ہے ، خبر رساں اداروں کے مطابقدیر البلح ، المواسی ،خان یونس اور غزا سٹی کے دیگر رہائشی علاقوں میں حملے کیے گئے ،جس میں مزید شہادتیں متوقع ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی