ملک بھر کیلئے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
آئندہ مالی سال کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کی تجاویز تیار کرلی گئی ، گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ایک روپے 16 پیسے فی یونٹ تک کمی کا امکان ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کا امکان ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کی تجاویز تیار کرلی گئی ہیں۔
گھریلوصارفین کے لیے بنیادی ٹیرف میں ایک روپے 16 پیسے فی یونٹ تک کمی کا امکان ہے۔
پاور ڈویژن کی آئندہ مالی سال ملک بھر میں یکساں ٹیرف کے لیے درخواست نیپرا میں جمع کرادی، نیپرا نے پاور ڈویژن کی درخواست پر یکم جولائی کو سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ تجویز کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف 48.
پاور ڈویژن کی درخواست منظور ہونے کے بعد 101 سے 200 یونٹ تک پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کا ٹیرف 1.15 روپے کمی سے 13.01 روپے ہوگا جب کہ ایک سے 100 یونٹ تک نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کا ٹیرف 1.15 روپےکمی سے 22.44 روپے ہوجائے گا۔
تجویز کے مطابق ماہانہ 101 سے 200 یونٹ تک کا ٹیرف 1.16 روپےکمی سے 28.91 روپے ہوجائے گا، ماہانہ 201 سے 300 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 33.10 روپے ہوجائے گا۔
اسی طرح، ماہانہ 301 سے 400 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 37.99 روپے ہوجائے گا اور ماہانہ 401 سے 500 یونٹ کا ٹیرف 1.14 روپے کمی سے 40.22 روپے ہوجائےگا۔
علاوہ ازیں، ماہانہ 501 سے 600 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 41.62 روپے ہوجائے گا اور ماہانہ 601 سے 700 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 42.76 روپے ہوجائے گا جب کہ ماہانہ 700 یونٹ سے زیادہ کا ٹیرف 1.15 روپے کمی سے 47.69 روپے ہوگا۔
تجویز میں کہا گیا کہ ٹیکسوں کو ملاکر سیلب کے حساب سے فی یونٹ ٹیرف کی قیمت بڑھ جائے گی، ماہانہ 50 یونٹ تک کے گھریلو لائف لائن صارفین کے لیے 3.95 روپے فی یونٹ کا ٹیرف برقرار رہے گا۔
مزید بتایا گیا کہ ماہانہ 51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے ٹیرف 7.74 روپے فی یونٹ برقرار رہے گا۔
اس سے قبل، نیپرا نے آئندہ مالی سال کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کی منظوری دی تھی۔
نیپرا نے اپنا فیصلہ یکساں ٹیرف کے تعین کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوایا تھا، نیپرا نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں تقریبا ڈیڑھ روپے فی یونٹ کمی کی منظوری دی تھی۔ Post Views: 6
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی یونٹ کا ٹیرف 1 16 روپے کمی سے کا ٹیرف 1 15 روپے ا ئندہ مالی سال روپے ہوجائے گا گھریلو صارفین صارفین کے لیے پاور ڈویژن کی کمی کا امکان نیپرا نے یونٹ تک فی یونٹ کمی کی
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔