گیس کی قیمتوں میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
ترجمان اوگرا کے مطابق گیس کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی 2025ء سے ہو گا، اس اضافے کا اطلاق گھریلو صارفین پر نہیں گا۔
گھریلو صارفین کے لیے صرف ماہانہ فکسڈ چارجز میں اضافہ کیا گیا ہے، روٹی کے تندور، کمرشل، جنرل انڈسٹری، سی این جی کے لیے گیس کی قیمتیں تبدیل نہیں کی گئیں۔
سیمنٹ اور کھاد کے لیے گیس کی قیمتیں تبدیل نہیں کی گئیں، بلک صارفین، پاور سیکٹر اور انڈسٹری کے لیے گیس کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں، گیس کے گھریلو صارفین کے فکسڈ چارجز میں اضافہ ہو گا۔
ماہانہ گیس کی کھپت 15مکعب میٹر سے زائد ہونے کی صورت میں فکسڈ چارجز میں 1 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، اتنی گیس کی کھپت پر فکسڈ چارجز 3000 روپے کر دیے گئے۔
پاور پلانٹس کے لیے گیس 16 اعشاریہ 66 فیصد مہنگی کی گئی ہے، بجلی کے کارخانوں کے لیے گیس کی قیمت میں 175 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے۔
بجلی کے کارخانوں کے لیے گیس کی نئی قیمت 1 ہزار 225 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
جنرل انڈسٹری کے لیے گیس کی قیمت میں 150 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے، نئی قیمت 2300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
کیپٹیو پاور پلانٹس کے لیے گیس کی قیمت 3500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے لیے گیس کی قیمت اضافہ کیا گیا ہے فکسڈ چارجز کی گئی ہے
پڑھیں:
بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے مجموعی بلوں میں کمی ہوئی ہے تاہم یہ درست ہے کہ فکسڈ چارجز دوگنا ہو گئے ہیں۔ سبسڈی ملتی رہی تو بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ کمی کرتا رہوں گا۔ آنے والے دنوں میں دوپہر کے وقت شمسی توانائی سے کم نرخوں پر بجلی فروخت کی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ جب مفتاح اسماعیل خود وزیر تھے تو 18 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے تھے، ہم صرف 9 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے ہیں، جس کی تفصیلات موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم مفتاح اسماعیل کے پاس 26000 میگاواٹ کا اعداد و شمار کہاں سے آیا۔ اس اعداد و شمار میں نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے، جس پر کوئی صلاحیت کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ جولائی 2025 سے اب تک بجلی کی کھپت میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ گزشتہ 9 سے 10 ماہ میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے جو نیپرا کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ جب میں وزارت میں آیا تو اس میں سے 9 ہزار میگاواٹ لی۔ بقیہ 9000 میگاواٹ بجلی داسو اور بھاشا سے خریدی جائے گی۔ اس 9,000 میگاواٹ میں 1,200 میگاواٹ کا ایٹمی پلانٹ بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق میں نے پاور ڈویژن کے اخراجات آدھے اور ڈسکوز کے نقصانات کو کم کیا ہے۔ اس سال ڈسکوز کے نقصانات کو 586 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے کر دوں گا۔ میں نے ٹیکس دہندگان کا پیسہ آدھا کر دیا ہے جو ہمارے فضول خرچیوں پر استعمال ہو رہا تھا۔ اگر سبسڈی جاری رہی تو بجلی کی قیمت میں 4، 5 سے 6 روپے کمی کرتا رہوں گا، میں نے ٹیکس دہندگان کے 600 ارب روپے بچائے ہیں۔
مزید پڑھیں۔روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی