مقامی ذرائع کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد زخمی ہو گئے، جبکہ درجنوں کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ زلزلے کی شدت 5.5 بتائی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد زخمی ہو گئے، جبکہ درجنوں کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ مقامی ذرائع نے نجی اخبار کو بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے ضلع کے مختلف علاقوں، خصوصاً کنگری میں محسوس کئے گئے، جس کے باعث لوگ خوف و ہراس کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے۔ زخمی افراد کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال موسیٰ خیل منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ زیر علاج ہیں۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.

5 جبکہ گہرائی 28 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ مرکز موسیٰ خیل سے 56 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔ زلزلے کے باعث متعدد کچے اور مٹی سے بنے مکانات کی دیواریں گر گئیں، جن سے جانی نقصان کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لئے سروے شروع کر دیا گیا ہے۔ ضلعی حکام نے ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے فوری امدادی کارروائیوں کی ہدایت جاری کی ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کچے مکانات سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ضلعی کنٹرول روم یا قریبی ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: زلزلے کے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی