جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج قرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی سینیارٹی کے تعین کے معاملے پر صدر مملکت آصف زرداری نے فیصلہ لیتے ہوئے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا سینئر ترین جج قرار دے دیا گیاہے جس سے ان کے مستقل چیف جسٹس بننے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔جس کے بعداب اسلام آبادہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کے لیے جوڈیشل کمیشن میں 3سینئر ترین ججوں میں مقابلہ ہوگا، اگلے قومی جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اس معاملے کو رکھے جانے کا امکان ہے،کمیشن کے ارکان کی کثرت رائے سے نئے چیف جسٹس کا فیصلہ کیا جائے گا۔حکومت قائم مقام چیف جسٹس سرفرازڈوگر جب کہ اپوزیشن ارکان کی طرف سے جسٹس محسن اخترکیانی اور گل حسن اورنگزیب میں سے کسی کا نام سامنے آنے کا امکان ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس سرفراز ڈوگر پہلے جب کہ جسٹس محسن اختر کیانی دوسرے نمبر پرآگئے ہیں۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہوں گے،نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے ۔جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف کا مستقل تبادلہ کر دیا گیا۔صدرمملکت آصف علی زرداری نے عدالت عظمیٰ آئینی بینچ کی جاری ہدایات کی روشنی میں نمٹایا ہے اور سینئرترین ججوں بارے تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس سرفراز ڈوگر چیف جسٹس
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔