فاسٹ اینڈ فیورئیس 11: مرے ہوئے پال واکر کی واپسی کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
فاسٹ اینڈ فیورئیس 11 نے آنجہانی ہالی ووڈ اداکار پال واکر کی واپسی کا عندیہ دیا ہے۔
یاد رہے کہ مشہور اداکار پال واکر 2013 میں ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ انہوں نے کئی مشہور فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے مگر فاسٹ اینڈ فیورئیس فرنچائز میں برائن او کونر کا کردار ان کا مشہور ترین فلمی کردار رہا۔
مشہور زمانہ فرنچائز ’فاسٹ اینڈ فیوریس اپنے گیارہویں پارٹ کے ساتھ 2026 میں واپسی کی تیاری کر رہی ہے، اور اطلاعات کے مطابق اس بار کچھ حیران کن چیزیں متوقع ہیں جن میں پال واکر کے کردار برائن او کونر کی ممکنہ واپسی بھی شامل ہے۔
فاسٹ اینڈ فیورئیس میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار وِن ڈیزل نے نہ صرف نئی فلم کی ممکنہ ریلیز کی تاریخ کی تصدیق کی، بلکہ برائن کی واپسی کا اشارہ دے کر مداحوں کو خوش کر دیا۔
وِن ڈیزل نے حال ہی میں فیول فیسٹ نامی ایک کار شو میں شرکت کی، جو کہ پومونا، کیلیفورنیا میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ’فاسٹ‘ سیریز کے دیگر اداکار ٹائریس گبسن اور کوڈی واکر بھی موجود تھے۔ مختصر ظاہری ملاقات کے دوران وِن ڈیزل نے مداحوں کو نئی فلم سے متعلق اہم اپڈیٹس سے آگاہ کیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ فاسٹ 11 ممکنہ طور پر اپریل 2027 میں ریلیز ہو سکتی ہے۔ وِن ڈیزل نے بتایا کہ اسٹوڈیو نے مجھ سے کہا کہ وِن، کیا ہم فاسٹ اینڈ فیوریس کا فائنالے اپریل 2027 میں رکھ سکتے ہیں؟
وِن نے جواب دیا کہ میں نے ان کے سامنے تین شرائط رکھیں۔ پہلی یہ کہ فرنچائز کو دوبارہ لاس اینجلس واپس لایا جائے۔ دوسری، کہ کار کلچر اور اسٹریٹ ریسنگ پر واپسی ہو۔ اور تیسری یہ کہ ڈوم اور برائن او کونر کو دوبارہ ایک ساتھ دکھایا جائے۔
اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ برائن او کونر کی واپسی سے وِن ڈیزل کی مراد کیا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ پال واکر 2013 میں 40 برس کی عمر میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے لیکن اس امکان نے مداحوں میں جوش بیدار کردیا ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: برائن او کونر ن ڈیزل نے کی واپسی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔