فی الحال وفاق سے پیپلز پارٹی کو وفاق میں شمولیت کی کوئی آفر نہیں کی گئی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن—فائل فوٹو
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ فی الحال پیپلز پارٹی کو وفاق میں شمولیت کی کوئی آفر نہیں کی گئی۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت صوبے میں بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان میں بہترین صحت کی سہولیات سندھ حکومت فراہم کر رہی ہے، لوگ ملک بھر سے یہاں علاج کروانے آرہے ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ہماری فورسز دشمن کو ہر محاذ پر نقصان پہنچا رہی ہیں، وزیرستان میں 13 فوجی جوانوں کو شہید کیا گیا انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
کراچی پیپلزپارٹی نے وفاق اور پنجاب حکومت میں.
شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان کا حقیقی مؤقف بلاول بھٹو نے دنیا کے سامنے رکھا، چیئرمین بلاول بھٹو نے پارلیمنٹیرینز کے وفد کے ساتھ دنیا بھر میں بھارت کو بےنقاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلاول نے سندھ طاس معاہدے پر جو کہا اسی مؤقف کی عالمی عدالت نے تائید کی، عالمی عدالت کے فیصلے کا کریڈٹ بلاول بھٹو کو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہا کہ سندھ کے بجٹ میں گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہ میں 12 فیصد جبکہ گریڈ 16 سے اوپر کے ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ بجٹ میں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک ناکام ہوچکی ہے، بارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شرجیل میمن نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔