ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا القیوم عہدے پر بحال
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا القیوم عہدے پر بحال WhatsAppFacebookTwitter 0 30 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)عدالت نے پروفیسر ڈاکٹر ضیا القیوم کی برطرفی کے خلاف درخواست پر عبوری حکم جاری کرتے ہوئے انہیں عہدے پر بحال کر دیا۔
عدالت نے پروفیسر ڈاکٹر ضیا القیوم کے خلاف جاری کیے گئے برطرفی کے احکامات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا ہے، جس کے بعد وہ بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی)بحال ہو گئے ہیں۔سول جج فرسٹ کلاس ویسٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ ڈاکٹر ضیا القیوم کی برطرفی ہائر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس کی دفعہ 21 کے تحت قانونی طریقہ کار کے مطابق نہیں کی گئی۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ملازمت سے ہٹانے کے لیے قانونی تقاضوں کی پاسداری ضروری ہے اور جب تک مکمل سماعت نہیں ہو جاتی، برطرفی کے احکامات معطل رہیں گے۔عدالت نے 21 مئی 2025 کو جاری کیے گئے احکامات کو آئندہ سماعت تک معطل کر دیا اور قرار دیا کہ یہ احکامات بادی النظر میں غیر قانونی ہیں۔ اس دوران عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت کی تاریخ 16 جولائی 2025 مقرر کی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسوات سانحہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے، ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے ، فرخ خان وزیراعظم 3 جولائی کو آذربائیجان کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کو بڑا جھٹکا، چار قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین عہدوں سے برطرف حکومت کا عافیہ صدیقی کیس میں امریکی عدالت میں معاونت اور فریق بننے سے انکار بھارت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے، وہ پاکستان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتا، اسحاق ڈار زہران ممدانی جیسے رہنما امریکی معاشرے میں اتحاد کی علامت ہیں:محمد عارف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے دوست پاکستان کےساتھ کھڑے ہیں،، ترک صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ضیا القیوم
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔