چٹاگانگ بندرگاہ پر ہڑتال، بنگلہ دیش کی معیشت کو 22 کروڑ ڈالر کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
بنگلہ دیش کی سب سے بڑی بندرگاہ چٹاگانگ پورٹ پر ہڑتال کے باعث تمام سرگرمیاں معطل ہوگئیں، جس سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
چٹاگانگ پورٹ اتھارٹی کے سیکریٹری محمد عمر فاروق نے بتایا کہ "عام طور پر روزانہ 7 سے 8 ہزار کنٹینر کی ہینڈلنگ ہوتی ہے، مگر آج صبح سے کوئی بھی سامان لوڈ یا ان لوڈ نہیں ہو سکا۔"
انہوں نے کہا کہ اس بندش کے ملکی معیشت پر بڑے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش دنیا کا دوسرا بڑا گارمنٹس برآمد کنندہ ملک ہے، اور ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی صنعت اس کی 80 فیصد برآمدات پر مشتمل ہے۔
گارمنٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر محمود حسن خان نے بتایا کہ بندرگاہ کی سرگرمیوں کی بندش سے صرف ان کی صنعت کو 222 ملین ڈالر (22 کروڑ ڈالر) کا نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ "یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا، اور بہت سی فیکٹریاں دیوالیہ ہو سکتی ہیں۔"
نیشنل بورڈ آف ریونیو (NBR) کے ملازمین حکومت کی جانب سے ادارے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کے خلاف کئی ہفتوں سے وقفے وقفے سے ہڑتال پر ہیں۔
عبوری وزیراعظم اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے ہڑتالی ملازمین سے کام پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔
اتوار کو NBR ملازمین کو دفاتر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، کیونکہ حکومت نے احتجاج کی عمارت کے اندر اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔
ادھر ہفتے کے روز 13 بڑے تجارتی چیمبرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تنازع کو فوری طور پر حل کرے تاکہ بنگلہ دیشی معیشت کو تباہی سے بچایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔