کراچی میں کے ایم سی کی سڑکوں پر پارکنگ فیس ختم، میئر کراچی نے عوام کو خوشخبری سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کی حدود میں واقع مرکزی سڑکوں پر چارجڈ پارکنگ ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منگل یکم جولائی سے کے ایم سی کی تمام سڑکوں پر پارکنگ مکمل طور پر مفت ہو گی، اور صرف مخصوص چار دیواری والے مقامات پر پارکنگ فیس وصول کی جائے گی۔
میئر کراچی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری مالی بوجھ سے نجات دلائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں کے ایم سی کا 55 ارب روپے کا بجٹ برائے 26-2025 منظور، ترقیاتی منصوبوں کے لیے کتنی رقم مختص؟
انہوں نے کہاکہ اگرچہ کے ایم سی کو پارکنگ فیس کی مد میں سالانہ 4 سے 5 کروڑ روپے کی آمدن ہوتی تھی، لیکن اب ادارہ مالی طور پر مستحکم ہو چکا ہے اور خود کفیل ہو گیا ہے، اس لیے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کی حدود میں واقع 106 مرکزی سڑکوں پر قائم 46 پارکنگ سائٹس پر چارجڈ پارکنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چارجڈ پارکنگ عملے، متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور ٹریفک پولیس کو ہدایت جاری کردی گئی ہے کہ وہ کے ایم سی کی کسی بھی مرکزی سڑک پر پارکنگ فیس نہ لیں۔
میئر نے یہ بھی وضاحت کی کہ چند مخصوص مقامات جیسے بارہ دری، ڈولمین سینٹر، سفاری پارک، کراچی چڑیا گھر اور دیگر چار دیواری میں موجود پارکنگ ایریاز پر پارکنگ فیس برقرار رہے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے خبردار کیاکہ اگر کسی نے کے ایم سی کی حدود میں سڑک پر پارکنگ فیس وصول کی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو سہولت دینا ہماری اولین ترجیح ہے، اور پارکنگ فیس ختم کر کے ہم عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں وفاقی حکومت سے 100 ارب روپے کے حصول میں تعاون کریں، میئر کراچی کا گورنر سندھ کو خط
میئر نے مزید بتایا کہ کراچی کے 6 کنٹونمنٹ بورڈز کی حدود میں پارکنگ فیس کے حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا، کیونکہ یہ علاقے کے ایم سی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پارکنگ فیس ختم کراچی مرتضیٰ وہاب میئر کراچی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارکنگ فیس ختم کراچی مرتضی وہاب میئر کراچی وی نیوز پر پارکنگ فیس کے ایم سی کی کی حدود میں میئر کراچی سڑکوں پر
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔