کے آئی یو سے 12 طلباء کا اخراج غیر آئینی اور مذہبی آزادی پر حملہ ہے، طلبہ اتحاد
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
بیان کے مطابق اخراج کا شکار طلباء کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی قسم کی بدنظمی، سیاسی سرگرمی یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ یومِ حسینؑ کو خالصتاً عقیدت اور امن کے ساتھ منایا۔ اسلام ٹائمز۔ طلباء اتحاد گلگت بلتستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یومِ حسینؑ کی پُرامن تقریب کے انعقاد پر طلباء کا اخراج افسوسناک اور مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں یومِ حسینؑ کی مناسبت سے منعقدہ ایک پُرامن اور باوقار مذہبی تقریب کے بعد 12 طلباء کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں یونیورسٹی سے نکال دینا ایک غیر آئینی، غیر اخلاقی اور مذہبی آزادی کے خلاف اقدام ہے، جس پر طلباء تنظیموں، سول سوسائٹی اور عوامی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ جہاں یونیورسٹی کی حدود میں غیر اخلاقی تقریبات اور ناچ گانے پر کوئی بازپرس نہیں ہوتی، وہیں نواسۂ رسولؐ کی یاد میں منعقدہ مجلس پر سخت کارروائی کی گئی۔ یہ رویہ واضح طور پر دہرا معیار اور مذہبی تعصب کی عکاسی کرتا ہے، جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
بیان کے مطابق اخراج کا شکار طلباء کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی قسم کی بدنظمی، سیاسی سرگرمی یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ یومِ حسینؑ کو خالصتاً عقیدت اور امن کے ساتھ منایا۔ اس کے باوجود انہیں نہ صرف یونیورسٹی سے نکالا گیا بلکہ ان کے خلاف ضلعی انتظامیہ کو قانونی کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ نکالے گئے طلباء کی فوری بحالی کی جائے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے متنازعہ اور امتیازی فیصلے پر غیر مشروط معذرت کرے۔ تمام مکاتب فکر کو تعلیمی اداروں میں مساوی مذہبی آزادی دی جائے۔ اس واقعے کی غیر جانب دار انکوائری کروا کر اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔ گلگت بلتستان کے باشعور طلباء، شہری اور مذہبی طبقات کسی بھی تعصب، مذہبی امتیاز یا بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی پامالی کو قبول نہیں کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔