اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمتوں میں سے صحت ایک بہت بڑی اور اَن مول نعمت ہے۔ اس نعمت کی قدر اسی وقت ہوتی ہے جب انسان بیمار ہوتا ہے اور پھروہ اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ صرف صحت کی دعا مانگتا ہے۔
ہوا یوں کہ گزشتہ دنوں ہمیں صحت کے کچھ مسائل نے آگھیرا، 2022ء کے وسط میں پہلے تو ہمیں شدید ترین ’ہیٹ اسٹروک‘ ہوا جس کی وجہ سے بہت کمزوری ہوگئی تھی پھر اگلے برس کمر کے مہروں کی تکلیف ہو گئی جس نے کافی پریشان کیا۔ اپنی تکلیف دیکھ کر دل سے یہی دعا نکلتی رہی ’’یا اللّٰہ! ایسی تکلیف کسی کو نہ دے!‘‘ اس وقت اپنی بے بسی کا شدت سے احساس ہوا اور یہ بھی حقیقت آشکار ہوئی کہ صحت کے بغیر زندگی، زندگی ہی نہیں ہے۔
اس وقت سب سے زیادہ احساس نماز کی ادائی میں مشکل کا تھا۔ کافی دنوں تک زمین پر سجدہ کرنے سے محروم رہی، تو زمین پرسجدہ کرنے کی لذت کا احساس ہوا، لہٰذا اپنے رب کے آگے گڑگڑا کر صحت اور زمین پر سجدہ ریز ہونے کی دعا مانگی۔ آخر میرے رب نے مجھ گناہ کار پر اپنا کرم کر دیا اور میری تکلیف میں کمی آتی گئی۔ اور پھر وہ وقت بھی آگیا، جب میں زمین پر سجدہ کرنے کے قابل ہوگئی، تو سب سے پہلے اپنے رب کا شکرادا کیا۔اس سارے عرصے کے دوران صرف اور صرف صحت کی قدر کا اندازہ ہوتا رہا۔ اور یہ سب بتانے کا مقصد صحت کی قدر اور اہمیت کا احساس دلانا مقصود ہے۔
ہم سب کی ہر دل عزیز شخصیت حکیم محمد سعید شہید کامشہور قول ہے ’’اپنی صحت کی حفاظت کرنا بھی عبادت ہے۔‘‘ اگر اسی قول کو بنیاد بنالیا جائے، تو تمام پاکستانی صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ہمیں صرف اور صرف اپنی غذا کومتوازن رکھنے اور مثبت طرزِ زندگی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اپنی روز مرہ کی غذا میں صحت بخش کھانوں کو شامل رکھنا اور مضر صحت غذاؤں سے بچنے کا طریقہ اپنانا ہوگا۔ غذاکا اصل مقصد متوازن غذا کھانا ہے کہ متوازن غذا ہی تن درستی کی ضامن ہے۔ یوں ہم زیادہ عرصے تک صحت مند، مطمئن اور خوش رہ سکتے ہیں۔
اگر ہم واقعی صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ اقوام متحدہ کے مطابق پروسیسڈ غذا بیماریوں کی وجہ بن رہی ہے۔ جو ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کو بہت مرغوب ہے۔ تاہم اب ان کے اثرات کم ترقی یافتہ اور غریب ممالک میں بھی عام ہو گئے ہیں اور مزید ہورہے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ناقص یا مضر صحت غذا کے استعمال سے صحت کے بہت سے پیچیدہ اور طویل المدتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
مُضر صحت غذا کے باعث قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے اور بعض اوقات تو ختم بھی ہو جاتی ہے۔ ہمارے ’آئی کیو‘ لیول میں نمایاں کمی ہوتی ہے اور دیگر بہت سے مسائل بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔ افسوس پاکستانیوں کی اکثریت اپنی لاعلمی کے باعث یہی مُضرصحت غذا استعمال کرتی ہے۔ حالاں کہ انسانی صحت سب سے اہم ہے ، اس لیے غذا کاانتخاب کرتے وقت صحت بخش غذا کو ترجیح دینی چاہیے۔
اس ضمن میں خواتین کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ گھر میں اشیائے خورونوش لانا اور کھانا پکانا خواتین کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، اس لیے خواتین اپنی اس اہم ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے نہ صرف اپنی بلکہ گھر کے تمام افراد کی صحت و تن درستی کے لیے صرف متوازن غذا کو ہی ترجیح دیں۔ یہ بات بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ غذا کا انتخاب کرتے ہوئے صحت بخش غذا کا ہی انتخاب کریں کیوں کہ متوازن غذا اور صحت بخش غذا کا استعمال ہماری صحت کی اولین ضرورت ہے اور اس کی اہمیت سے تو انکار ممکن ہی نہیں ہے۔
متوازن غذا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی بدولت ہمیں تمام اہم ترین غذائی اجزا حاصل ہو جاتے ہیں جو ہماری صحت کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں۔ دراصل ہمارے جسم کو تمام غذائی اجزا، کے حصول کے لیے تمام اہم معدنیات، لحمیات، دالیں، سبزیاں اور پھلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سبزی خور افراد جو بعض وجوہ سے کسی قسم کا گوشت نہیں کھاتے ان کے لیے صرف دودھ، دہی اور پنیر ہی کیلشیم و لحمیات کا ذریعہ ہیں، جو ان کو مناسب مقدار میں ملنا چاہیے، یعنی وہ روز ایک پیالی دودھ پیئں اور دہی بھی کم از کم ایک دفعہ روزانہ کھائیں۔ سفید چاول کی بہ نسبت براؤن چاول ہمارے ہاں پسند نہیں کیے جاتے، حالاں کہ غذائی طور پر وہ بہترہوتے ہیں۔
جب چاولوں کو ابال کر ان کا پانی پھینک دیا جاتا ہے، تو تقریباً پچاس فی صد غذائیت ضائع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بغیر چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کے بہ جائے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کو ہمارے ہاں پسند کیاجاتا ہے۔ حالاں کہ آٹے کی بھوسی میں وافر مقدار میں ریشہ موجود ہوتا ہے، جو ہماری جسمانی صفائی کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر دالیں اور پھلیاں مناسب مقدار میں کھائی جائیں تو لحمیات کی کمی کچھ نہ کچھ تو پوری ہو سکتی ہے۔ سردیوں میں خشک میوہ جات سے بھی کچھ مقدار میں لحمیات مل سکتے ہیں، جب کہ پتوں والی ترکاریاں حیاتین اور معدنیات کے حصول کا اہم ذریعہ ہیں۔ جو افراد چاول خور ہیں، انھیں اپنی غذائی حیثیت درست کرنے کے لیے روزانہ کم از کم ایک وقت گندم کی روٹی کھانی چاہیے۔
تاکہ حیاتین ’ب‘ کا مجموعی طور پر ذخیرہ بہتر ہو جائے۔ جو لوگ سبزی خور ہیں ان کو اپنی خوراک میں دودھ، دہی، پنیر، اور انڈے شامل رکھنا چاہیے، تاکہ، لحمیات، کیلشیم اور حیاتین ’الف‘ کی کمی پوری کی جا سکے۔ غذا میں حیاتین ’ب‘ کی کمی صرف کلیجی اور انڈے کی زردی کھانے سے پوری ہوسکتی ہے۔ جو افراد دودھ، دہی اور گوشت بالکل نہیں کھاتے، انھیں لحمیات کی کمی پوری کرنے کے لیے دو انڈے روزانہ کھانے چاہئیں۔ جو لوگ گوشت اور انڈے نہیں کھاتے، انھیں دودھ استعمال کرنا چاہیے۔ سرخ گوشت کھانے والوں کو زیادہ مقدار میں دودھ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ غذا میں کیلشیم، فولک ایسڈ اور فولاد کے حصول کے لیے گہرے سبز رنگ کی سبزیاں، مثلاً پالک، میتھی، کرم کلا، پھول گوبھی اور سلاد کے پتے کھانے چاہئیں۔ حیاتین ’ج‘ سلاد، کچی سبزیاں اور سبز مرچوں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
ہمارے ہاں مروجہ کھانے پکانے کے طریقوں میں رائج ہے کہ انھیں زیادہ دیر تک پکایا جاتا ہے اور پکنے کے درمیان غذاؤں سے پانی نکلتا ہے اس کو پھینک دیا جاتا ہے۔ جب کھانا بہت دیر تک اور آہستہ آہستہ پکایا جائے تو حیاتین اور فولک ایسڈ ضائع ہو جاتے ہیں۔ فولک ایسڈ کی کمی سے خون کی کمی اور منہ میں چھالے ہوتے ہیں، جو خواتین میں عام ہیں۔ اندازاً 80 فی صد ضروری حیاتین ہمارے اس طرح کھانے پکانے سے ضائع ہو جاتے ہیں۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثریت کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ حرارے اور حیاتین کیا ہیں۔ روایتی طور پر ہمارے گھروں کے دسترخوان پر زیادہ تر افراد صرف اسی چیز کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہیں، جو ان کو پسند ہوتی ہے۔ یعنی وہ غذا نہیں کھاتے، جو ان کی صحت کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ وہ اچھی صحت کے لیے نہیں بلکہ صرف زبان کے چٹخارے کے لیے کھاتے ہیں۔ دراصل ہمیں اس بات کا علم ہی نہیں کہ صحت بخش غذا کیا ہے۔۔۔؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں غذا، بالخصوص صحت بخش غذا کے حصول کے ذرائع کے بارے میں علم ہو، تاکہ ہر فرد اپنی استطاعت یا وسائل میں رہتے ہوئے بھی صحت بخش اور توانائی سے بھر پور غذا کا انتخاب کر سکے۔
امیر ہو یا غریب ہو ، زندہ رہنے کے لیے ہر آدمی اپنی حیثیت کے مطابق خوراک کا اہتمام تو کرتا ہی ہے تو پھر کیوں نہ صحت بخش غذا اپنے دستر خوان کی زینت بنائیں۔ عموماً سادہ غذا، مرغن غذاؤں سے زیادہ توانائی سے بھر پور ہوتی ہیں، کیوں کہ سادہ غذا میں ہی قدرتی غذائیت اور قدرتی اجزاشامل ہوتے ہیں۔ اس لیے سادہ غذائیں صحت بخش سمجھی جاتی ہیں۔ سادہ غذائیں ہی
تن درستی کی ضامن ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے طرزِ زندگی کو درست انداز میں گزارنا، جیسے صبح جلدی
اٹھنا، رات کو جلدی سونا، صبح یا شام کو چہل قدمی کرنا، روز غسل کرنا، ہر قسم کے نشے سے دور رہنا، سیروتفریح کرنا اور مناسب آرام کرنا، ان طریقوں سے نہ صرف صحت میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ مسرت بھی حاصل ہوتی ہے۔ صحیح اسلوب زندگی اختیار کرنا اورایسی عادتیں ترک کرنا، جن سے فربہی، عارضہ قلب، بلند فشار خون اور دیگر موذی بیماریاں ہوتی ہیں۔
صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔یادرکھیں ہمارے جسم سے زہریلا مواد اسی وقت خارج ہوگا جب کہ ہماری غذا میں 70 فی صد پانی ہو، اچھی جسمانی کارکردگی کے لیے روزانہ کم از کم 8 گلاس پانی پینا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نہیں کھاتے متوازن غذا کی ضرورت سکتے ہیں اہمیت کا ہوتی ہے ہوتا ہے کے حصول جاتی ہے صحت کے صحت کی کے لیے غذا کا ہے اور کی کمی
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔