گیس مہنگی کرنا عوام پر معاشی بم گرانے کے مترادف ہے: چوہدری ذوالفقار
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کامرس ڈیسک) مرکزی کسان لیگ کے چیئرمین چوہدری ذوالفقار علی اولکھ اور صدر اشفاق ورک نے آئی ایم ایف کے دباو پر گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے پاکستانی عوام اور کسان طبقے پر ایک اور معاشی بم قرار دیا ہے۔ رہنماوں نے اپنے شدید ردعمل میں کہا کہ پہلے ہی مہنگائی، بیروزگاری، اور ٹیکسوں کے بوجھ نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، ایسے میں گیس نرخوں میں ہوشربا اضافے کا فیصلہ سراسر ظلم اور معاشی دہشت گردی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام، خصوصاً کسان، دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، بجلی، پٹرول اور کھاد کی قیمتیں پہلے ہی ناقابلِ برداشت حدوں کو چھو رہی ہیں، اور اب گیس بلز نے عوام کے گھریلو بجٹ کو مکمل تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔مرکزی کسان لیگ کے قائدین نے کہا کہ حکومت نے سپر ٹیکس اور زرعی آمدنی ٹیکس کی صورت میں پہلے ہی کسانوں کی کمر توڑ دی ہے، اور اب گیس قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے ذریعے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی زرعی معیشت پہلے ہی شدید بحران کا شکار ہے۔ ایسے میں توانائی کے نرخوں میں اضافہ، بالواسطہ طور پر پیداواری لاگت بڑھا کر زرعی شعبے کو مکمل تباہی کی جانب دھکیل دے گا۔ رہنماوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے، عوامی مشکلات کا ادراک کرے اور گیس نرخوں میں مجوزہ اضافہ فی الفور واپس لے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔