ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے صوبائی صدر نے کہا ہے کہ آج پاکستان اور ایران اور دیگر اسلامی ممالک کو متحد ہوکر غزہ فلسطین پر ہونے والے مظالم کو بزور قوت روکنا ہوگا، امریکہ کا اعلان کر دہ فارمولا خطرناک ہے اور ناقابل قبول ہے یہ مشرق وسطی کے مسلمان ممالک کو زیر کرنے کی مزید گہری سازش ہے۔  اسلام ٹائمز۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیر زبیر اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کی ہدایت کے مطابق پورے ملک کی طرح ملتان میں بھی یوم فتح کی تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت حافظ محمد اسلم نے کی محمد ایوب مغل نے کہا کہ اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے خلاف ایران نے بہادری اور جرات مندی کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے امت میں جذبہ جہاد زندہ ہوگیا ہے اور ایران نے امریکہ کے سپر پاور ہونے کی حقیقت کو کھول کے رکھ دیا ہے کہ اگر مسلمان ایمانی جذبہ سے ثابت قدم ہوکر لڑے تو امریکہ بھی میدان جنگ سے بھاگ جاتا ہے۔ دیگر رہنمائوں نے کہا کہ اس سے قبل پاکستانی فوج نے انڈیا کو دھول چٹا کر اسرائیل اور انڈیا کی طاقت کو پاش پاش کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، اگر تمام اسلامی ممالک متحد ہو جائیں تو کفار دم دبا کر بھاگتے نظر آئیں گے۔

آج پاکستان اور ایران اور دیگر اسلامی ممالک کو متحد ہوکر غزہ فلسطین پر ہونے والے مظالم کو بزور قوت روکنا ہوگا، امریکہ کا اعلان کر دہ فارمولا خطرناک ہے اور ناقابل قبول ہے، یہ مشرق وسطی کے مسلمان ممالک کو زیر کرنے کی مزید گہری سازش ہے، جس سے امت کو بچنے کی انتہائی کوشش کرکے اس کافرانہ منصوبے کو ناکام بنانا چاہئے اور یہ حقیقت ہے کہ سپر پاور امریکہ نہیں سپر پاور صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالی کی ذات ہے اسی پر یقین رکھتے ہوئے کفار کو زیر کیا جا سکتا ہے، اب امت میں جذبہ جہاد کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں مفتی ممتاز احمد، بشارت عباس قریشی، علامہ خالد محمود فاروقی، مولانا عبد الرزاق، علامہ طارق ہاشمی، سلیم عباس صدیقی، سید آصف شاہ، رحمت اللہ، محمد اشفاق سعیدی اور دیگر حضرات شریک تھے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ممالک کو سپر پاور

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی