ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اگر آپ روزانہ صرف 100 منٹ پیدل چلیں تو آپ کو کمر درد کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ سادہ سی ورزش مہنگی دواؤں کے بغیر بھی موثر ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیق 2017 سے 2023 کے درمیان 11,000 سے زائد بالغ افراد پر کی گئی، جن کی اوسط عمر 55 سال تھی۔ مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ کمر درد کی شدت اور خطرہ پیدل چلنے کے دورانیے کے ساتھ نمایاں حد تک کم ہوتا گیا تاہم 100 منٹ کے بعد اس میں مزید بہتری کا گراف مستحکم ہو گیا۔

نوجوان بھی متاثر: طرزِ زندگی خطرناک حد تک ساکت

ماہرین کے مطابق آج کل 20، 30 اور 40 سال کے افراد میں بھی کمر درد کی شکایات تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ بیٹھنے کا اسٹائل، مسلسل کمپیوٹر یا موبائل اسکرین پر جھک کر کام کرنا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹائپ 2 ذیابیطس یا شوگر سے نجات کے لیے کتنا تیزی سے چلنا ضروری ہے؟

یہ معمولی سی سستی رفتہ رفتہ پٹھوں کی کمزوری، ریڑھ کی ہڈی میں دورانِ خون کی کمی، جوڑوں کی سختی اور ڈسک کے دباؤ جیسے مسائل کو جنم دیتی ہے، جس سے معمولی حرکات بھی تکلیف دہ بن جاتی ہیں۔

پیدل چلنا کیوں مفید ہے؟

تحقیق کے مطابق ہر قدم پر ریڑھ کی ہڈی میں نرم حرکت ہوتی ہے، جو اسے متحرک اور فعال رکھتی ہے۔ کمر، کولہے، پیٹ اور ٹانگوں کے عضلات متحرک ہوتے ہیں۔ جسمانی توازن اور کرن بہتر ہوتی ہے۔ وزن میں کمی کے ذریعے دباؤ کم ہوتا ہے اور جسم میں قدرتی درد کم کرنے والے ہارمونز (اینڈورفنز) کا اخراج ہوتا ہے۔

وقت نکالنا مشکل؟ پھر کیا کیا جائے؟

100 منٹ سن کر گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ وقت دن میں مختلف اوقات میں بانٹا جا سکتا ہے، مثلاً  صبح 30 منٹ، دوپہر یا ظہرانے کے بعد 30 منٹ، شام یا رات کو 40 منٹ
یا دن بھر میں 10 سے 15 منٹ کی مختصر چہل قدمی بھی کافی ثابت ہو سکتی ہے۔ جیسے فون کال کے دوران، دفتر میں وقفے کے دوران یا سیڑھیاں چڑھ کر۔

اگر پہلے سے درد ہے؟ تو شروعات چھوٹی رکھیں

ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ پہلے سے کمر درد کا شکار ہیں تو صرف 5 منٹ سے آغاز کریں۔ ہموار زمین پر، آرام دہ جوتوں کے ساتھ، اور وقفے وقفے سے آرام کریں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے میں مستقل مزاجی رکھی جائے۔

یہ بھی پڑھیے واک: کھانے سے پہلے یا بعد میں سودمند؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ  اگر آپ کمر درد سے نجات چاہتے ہیں تو مہنگی دواؤں یا مہنگے علاج کی ضرورت نہیں صرف روزانہ کی سادہ چہل قدمی ہی کافی ہو سکتی ہے۔ پہلا قدم ہی شفا کی طرف پہلا قدم ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیدل چلنا صحت کمردرد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیدل چلنا

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ