کوئٹہ:

بلوچستان میں مون سون کے پہلے اسپیل میں ایک بچے و خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ ماہ مون سون میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق مون سون کے پہلے اسپیل میں ایک بچے اور 5 خواتین سمیت 6 افراد جاں بجق ہوئے ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیوار گرنے اور سیلابی ریلے میں بہنے سے 3 خواتین سمیت 7 افراد زخمی ہوئے ۔ علاوہ ازیں خضدار اور زیارت میں بارشوں سے 11 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا  جب کہ ژوب میں گاڑی سیلابی ریلے میں بہنے سے ایک بچہ اور 3 خواتین جاں بحق ہوئیں ۔ اسی واقعے میں خاتون اور ایک شخص زخمی بھی ہوئے ۔

علاوہ ازیں زیارت میں خاتون ڈیم میں بہہ جانے سے جاں بحق ہوگئی جب کہ موسی خیل میں دیوار گرنے سے ایک خاتون سمیت 4 افراد زخمی ہوئے۔

بلوچستان میں موسم گرم اور مرطوب

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

ماہرین کے مطابق موسیٰ خیل، بارکھان، خضدار، قلات، مستونگ میں تیز ہواوٴں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ آج کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ  کیا گیا۔

اسی طرح قلات 33، زیارت میں 29 اورژوب میں 38 ڈگری سینٹی گریڈ، سبی میں درجہ حرارت 44، تربت میں 41، نوکنڈی میں 45 ، چمن میں 41 ، گوادر میں 34 اور جیوانی میں 33 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خواتین سمیت

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار