کسٹمز نے پی ٹی آئی رہنما کی گاڑی ضبط کر لی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے نائب صدر کی ویگو گاڑی کسٹمز حکام نے پکڑ لی۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے نائب صدر اکمل خان باری نے کسٹمزحکام کیخلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔عدالت نے درخواست پر کسٹمز حکام سے 3 جولائی کو جواب طلب کرلیا، جسٹس شاہد کریم نے اکمل خان باری کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست میں کسٹم انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔امجد فاروق بسمل ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار پی ٹی آئی کا صوبائی نائب صدر ہے، کسٹم حکام نے درخواست گزار کا ویگو ڈالہ قبضے میں لے لیا ہے۔
پہلگام کے ہوٹل میں 70 سالہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کسٹم حکام نے بغیر کسی وجہ کے ویگو ڈالہ قبضے میں لیا، عدالت کسٹم حکام کو ویگو ڈالہ واپس کرنے کا حکم دے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک