پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بسوں کے کرایوں میں بھی اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹر سٹی بس سروس کرایوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔
مختلف انٹر سٹی بس سروس کے مسافروں کرائے بڑھنے پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ ایک مسافروں نے بتایا کہ صادق آباد کا کرایہ 2 ہزار دے کر آئے تھے اب 2 ہزار 300 چارج کر رہے ہیں۔
کراچی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر.
ایک اور مسافر کا کہنا تھا کہ میرپور خاص سے ڈھائی ہزار کرایہ دے کر آئے تھے اب ٹرانسپورٹر واپسی 3 ہزار روپے مانگ رہے ہیں۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے ہمارے کاروبار پر اثر پڑتا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا مزید کہنا ہے کہ کرایے بڑھانا ہماری مجبوری ہے، ہم نے سب اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مصنوعات کی قیمتوں میں
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔