اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ اضافہ کا اصل سبب کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
ملک میں سیاسی استحکام اور عالمی سطح پر حالات بہتر ہونے کے بعد کراچی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی ہے، جہاں 100 انڈیکس 1792 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 27 ہزار 419 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں 1163 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا جس سے انڈیکس 1 لاکھ 26 ہزار 790 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔ اسٹاک مارکیٹ نے پہلی بار 1 لاکھ 26 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر کے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط کیا۔
ماہرین کی رائےاسٹاک مارکیٹ ایکسپرٹ سلمان نقوی نے کہا کہ معاشی اعشاریے جیسے کرنسی کی مضبوطی، سرمایہ کاری میں اضافہ، اور سادہ اکثریت کی حامل حکومت کی تشکیل نے سرمایہ کاروں کو پُراعتماد کیا ہے۔ عالمی سطح پر امن کی فضا اور تیل کی قیمتوں میں کمی نے بھی پاکستان کی معیشت کو تقویت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے نئے مالی سال کے پہلے ہی روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس پہلی بار 27 ہزار کی سطح عبور کرگیا
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ اب بھی قدر کے لحاظ سے سستی ہے، یہی وجہ ہے کہ مقامی و غیرملکی سرمایہ کار مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔
خطے میں کشیدگی کم، مارکیٹ بحالاسٹاک ماہر جبران احمد کے مطابق، ’ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث مارکیٹ پر کچھ منفی اثر ضرور پڑا تھا، لیکن جیسے ہی جنگ کے بادل چھٹے، مارکیٹ نے دوبارہ تیزی کا سفر شروع کر دیا۔‘
یہ بھی پڑھیے اسٹاک مارکیٹ میں تنزلی کے دوران ٹریڈنگ کیوں روک دی جاتی ہے، اور ایسا کب کب ہوا؟
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستانی وفد پیر کو واشنگٹن پہنچ چکا ہے تاکہ امریکا کے ساتھ اہم تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کا اثر نہ صرف اسٹاک مارکیٹ بلکہ مجموعی معیشت پر مثبت ہوگا۔
کیا آگے مزید بہتری متوقع ہے؟ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت سمت میں ہیں، اور اگر کوئی غیر متوقع صورتحال نہ پیش آئی، تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مزید بہتری کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بزنس کاروبار کراچی اسٹاک مارکیٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کاروبار اسٹاک مارکیٹ میں
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔