وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت علمی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل قومی اداروں کی بندش یا انضمام پر کوئی غور نہیں کر رہی۔ ان اداروں کو مزید مضبوط، مؤثر اور فعال بنانے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی تاکہ پاکستان کا تہذیبی و ثقافتی چہرہ دنیا کے سامنے مثبت انداز میں اجاگر ہو اور معاشرہ انتہا پسندی جیسے عناصر سے محفوظ رہے۔

یہ بات انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی کے لیڈر عرفان صدیقی سے ملاقات کے دوران کہی۔

ملاقات میں سینیٹر عرفان صدیقی نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ حکومت کی رائٹ سائزنگ کمیٹی کی سفارشات کے بعد علمی و ادبی اداروں کی ممکنہ بندش یا انضمام پر ملک بھر کے اہلِ قلم، دانشوروں، شاعروں، اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں ان اداروں کی بھرپور سرپرستی کی گئی، جس کے مثبت اثرات علمی اور ادبی حلقوں میں محسوس کیے گئے۔

مزید پڑھیں: چند کروڑ بچانے کی خاطر 5 ادبی و علمی اداروں کے خاتمے کا منصوبہ

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کو نظر انداز کرنے والے معاشرے ایک مشینی سوچ کے زیر اثر آ کر انسانی جذبات اور لطافت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان اداروں کی کارکردگی اور نظم و نسق کو بہتر بنانے، اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی جلد تشکیل دی جائے گی، جو ان اداروں کے مینڈیٹ اور دائرہ کار میں توسیع کی تجاویز مرتب کرے گی۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے وزیراعظم کے واضح اور حوصلہ افزا مؤقف پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اعلان نہ صرف علمی و ادبی حلقوں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک خوش آئند پیغام ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 16 جون کو وی نیوز نے علمی و ادبی ادارے بند کرنے کے حوالے سے خبر بریک کی تھی، اور ایک کالم میں ان اداروں کے بارے میں تفصیل سے بات کی گئی تھی۔

مشکورعلی نے اپنے کالم ’چند کروڑ بچانے کی خاطر 5 ادبی و علمی اداروں کے خاتمے کا منصوبہ‘ میں کہا تھا کہ ’افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ تمام ادارے جن حکومتوں کے وژن کا حصہ تھے، آج انہی کی اتحادی حکومت ان اداروں کے وجود کے درپے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر قوموں کا وقار ان کے ادبی، لسانی، سائنسی، اور فکری اداروں سے ہوتا ہے تو کیا ہم اپنے وقار کو خود ہی مٹا رہے ہیں؟ کیا ہم بجٹ کی سادگی کے نام پر اپنے قومی ورثے سے دستبردار ہو رہے ہیں؟ یہ وقت ہے سنجیدہ قومی مکالمے کا، بصورت دیگر ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’چند کروڑ بچانے کی خاطر 5 ادبی و علمی اداروں کے خاتمے کا منصوبہ‘ اردو لغت بورڈ اکادمی ادبیات سینیٹر عرفان صدیقی مشکورعلی وزیراعظم محمد شہباز شریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اکادمی ادبیات سینیٹر عرفان صدیقی مشکورعلی وزیراعظم محمد شہباز شریف عرفان صدیقی شہباز شریف اداروں کی اداروں کے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری