بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے بہت سارے راستے اور لائحہ عمل موجود ہیں: فیصل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بہت سارے راستے اور لائحہ عمل موجود ہیں۔
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مایوسی کی فضاء ہے، میں بانی پی ٹی آئی کا پیغام لے جانا چاہتا ہوں، میں سمجھتا ہوں اب بھی رہائی کے لیے بہت راستے موجود ہیں، پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ٹھوس اقدامات اور لائحہ عمل بنانا ضروری ہے، لسٹ ایک جیسی بنتی ہے، دوسرے لوگوں کو بھی ملاقات کا موقع دینا چاہیے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل فیصل چوہدری کو تاحال اپنے موکل سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے مزاحمت اور مفاہمت کے راستے ساتھ ساتھ چلتے ہیں، مفاہمت کا راستہ بھی نہیں چھوڑنا چاہیے، مزاحمت کا آپشن بھی کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ میں موسم اور وقت دیکھ کر فیصلہ کرنے والا آدمی ہوں، ماحول دیکھ کر چلتا ہوں، مجھے تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی نظر آرہی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوام کا پرسان حال جیل میں ہے، پیٹرول مہنگا ہونے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی رہائی فیصل چوہدری
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔