Daily Mumtaz:
2026-06-03@01:07:02 GMT

چینی مندوب کا غزہ میں فوری اور دیرپا جنگ بندی پر زور

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

چینی مندوب کا غزہ میں فوری اور دیرپا جنگ بندی پر زور

 

اقوام متحدہ : اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو چھونگ نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں غزہ کی پٹی میں فوری اور دیرپا فائر بندی کا پرزور مطالبہ کیا۔منگل کے روز چینی مندوب فو چھونگ نے کہا کہ چین اسرائیل کو زور دیتاہے کہ غزہ میں تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے۔متعلقہ فریقوں میں اہم اثرات کے حامل ملک کو بھی منصفانہ اور ذمہ دارانہ رائے سے فائر بندی کے لیے ٹھوس عمل کرنا ہے۔غزہ میں انسانیت انتہائی خطرے کا شکار ہے۔اسرائیل کو بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق قابض طاقت کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے، غزہ میں ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنی چاہیے،انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سازوسامان کی رسائی بحال کرنی چا ہیے اور اقوام متحدہ سمیت دیگر انسانی ہمدردی کے اداروں کی حمایت کرنی چاہیے۔ اسرائیل دریائے اردن کے مغربی کنارے پر آباد کاری کی پالیسی کو آگے بڑھا رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہیں اور فلسطین کی آزادی کی بنیادی کے لیے نقصان دہ ہیں۔چین اسرائیل سے مغربی کنارے پر حملے اور آباد کاری کی سرگرمیاں بند کرنے، آباد کاروں کے تشدد کو روکنے اور فلسطینی بینکوں پر عائد پابندیاں اٹھانے کی اپیل کرتا ہے۔چینی مندوب نے زور دیا کہ ” دو ریاستی منصوبہ ” فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے واحد راستہ ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت