پاکستان نے عالمی کشیدگی کے دور میں سفارتی ذمہ داری سنبھال لی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا باضابط صدر بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
پاکستان نے عالمی کشیدگی کے دور میں سفارتی ذمہ داری سنبھال لی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا باضابط صدر بن گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 1 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) ایسے وقت میں جب دنیا شدید تنازعات، گہری جغرافیائی سیاسی تقسیم اور کثیرالطرفہ اداروں کی مؤثریت پر بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کا سامنا کر رہی ہے، پاکستان نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔ یہ کردار اگرچہ علامتی نوعیت رکھتا ہے، تاہم موجودہ عالمی حالات میں اس کی اسٹریٹیجک اہمیت غیر معمولی ہے۔
تفصیلات کے ٹپاکستان کا یہ سلامتی کونسل میں آٹھواں دور ہے، جبکہ صدارت کا اعزاز اسے 2013 کے بعد پہلی بار حاصل ہوا ہے۔ پاکستان نے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اپنا موجودہ دو سالہ دور جنوری 2025 میں شروع کیا تھا، جو دسمبر 2026 تک جاری رہے گا۔
اگرچہ سلامتی کونسل کی صدارت ماہانہ بنیاد پر بدلتی ہے اور اسے براہِ راست انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہوتے، تاہم صدارت کا حامل ملک کونسل کے ایجنڈے، مباحثوں کے انداز اور ترجیحات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ 22 جولائی کو تنازعات کے کثیرالجہتی حل پر عالمی کانفرنس بھی ہوگی۔
ایسے وقت میں جب کہ سلامتی کونسل غزہ اور یوکرین جیسے معاملات پر مفلوج دکھائی دیتی ہے، پاکستان کی سفارتی قیادت عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی تناظر میں کثیرالطرفہ سفارتی نظام پر عوامی اعتماد کمزور ہو رہا ہے، ایسے میں پاکستان کی قیادت، خواہ محدود مدت کے لیے ہی کیوں نہ ہو، اقوامِ عالم کی نظریں اپنی جانب مرکوز کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق، اسلام آباد اس موقع کو عالمی امن و سلامتی کے فروغ، فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات پر آواز بلند کرنے اور ترقی پذیر ممالک کے مؤقف کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنئے مالی سال کا شان دار آغاز؛ اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، نیا سنگ میل عبور نئے مالی سال کا شان دار آغاز؛ اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، نیا سنگ میل عبور معروف بینکر جاوید قریشی پاکستان بزنس کونسل کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر جون میں مہنگائی کی شرح 3سے 4فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، وزارت خزانہ مخصوص نشستیں کیس،پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا 12ججز کے دستخط کیساتھ کورٹ آرڈر جاری کرنیکی استدعا حکومت کا عوام کو ریلیف، بجلی بلوں سے الیکٹریسٹی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ اسٹیٹ بینک اور اس کے ذیلی ادارہ بینکنگ سروسز کارپوریشن عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کے بجائے توہین عدالت کے مرتکب ہو...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل پاکستان نے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔