عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی‘پاکستان میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم جولائی ۔2025 )عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں منگل کو کمی دیکھنے کو ملی جس کی وجہ اوپیک پلس کے اگست میں پیداوار میں اضافے کی توقعات اور امریکی ٹیرف میں اضافے کے خدشات تھے جو اقتصادی سست روی کا باعث بن سکتے ہیں برنٹ خام تیل کی قیمت 30 سینٹ، یا 0.
(جاری ہے)
این زیڈ کے سینئر کموڈیٹی اسٹریٹیجسٹ ڈینیئل ہائنس نے کہا کہ مارکیٹ اب اس بات پر تشویش کا شکار ہے کہ اوپیک پلس اتحاد اپنی پیداوار میں اضافے کی رفتار کو جاری رکھے گا گزشتہ ہفتے اوپیک پلس کے ذرائع نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ گروپ اگست میں پیداوار میں 411,000 بیرل فی دن کا اضافہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جو مئی، جون اور جولائی میں بھی اسی طرح کے اضافے کے بعد ہوگا اگر اس فیصلے کی منظوری ملتی ہے تو اوپیک پلس کا اس سال پیداوار میں کل اضافہ 1.78 ملین بیرل فی دن تک پہنچ جائے گا جو عالمی تیل کی مانگ کا 1.5 فیصد سے زیادہ ہے. اوپیک اور اس کے اتحادیوں، بشمول روس، جو اوپیک پلس کے نام سے جانے جاتے ہیں، 6 جولائی کو ملاقات کریں گے آئی این جی کموڈیٹیز کے اسٹریٹیجسٹ نے کہا کہ یہ بڑے سپلائی اضافے عالمی مارکیٹ کو باقی سال کے لیے تیل کی فراہمی کو بہتر کر دیں گے انہوں نے کہا کہ تیل کی بیلنس کے لیے توقعات اور اوپیک کی بڑی پیداوار صلاحیت، مارکیٹ کو سکون فراہم کر رہی ہے. امریکی ٹیرف اور عالمی ترقی پر ان کے اثرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے بھی تیل کی قیمتوں کو دباو¿ میں رکھا امریکی خزانہ کے سیکرٹری اسکاٹ بیسینٹ نے خبردار کیا کہ ممالک کو شدید اضافی ٹیرف کی اطلاع دی جا سکتی ہے حالانکہ بات چیت کا عمل جاری ہے، کیونکہ 9 جولائی کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے جب ٹیرف کی شرحیں عارضی 10 فیصد سطح سے دوبارہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معطل کردہ 11 سے 50 فیصد تک بڑھ جائیں گی. مورگن اسٹینلے کا اندازہ ہے کہ برنٹ فیوچر قیمتیں اگلے سال کے شروع میں تقریباً 60 ڈالر تک واپس آ جائیں گی کیونکہ مارکیٹ میں کافی مقدار میں تیل موجود ہوگا اور اسرائیل-ایران کی کشیدگی میں کمی کے بعد جیوپولیٹیکل خطرات کم ہو جائیں گے اس کی پیش گوئی ہے کہ 2026 میں 1.3 ملین بیرل فی دن کی زائد پیداوار ہو گی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پیداوار میں اوپیک پلس تیل کی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔