Islam Times:
2026-06-02@23:25:20 GMT

آٹھ فروری کو انتخابات نہیں، نیلامی ہوئی، اصغر اچکزئی

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

آٹھ فروری کو انتخابات نہیں، نیلامی ہوئی، اصغر اچکزئی

کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی رہنماء اصغر اچکزئی نے کہا کہ جعلی حکومت اور جعلی اسمبلی کا سب سے بڑا ثبوت اپوزیشن کیجانب سے وزیراعلیٰ کو پھولوں کے ہار پہنانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ نااہل جعلی فارم 47 کے نتیجے میں برسر اقتدار حکمران ٹولہ ملازمین کا سامنا کرنے کے بجائے انہیں جیلوں میں بند کر رہے ہیں۔ جس نے حکمرانوں کو کرسی پر بٹھائے رکھا، وہ انہیں سڑکوں پر خون میں لت پت کرکے گھسیٹ رہے ہیں۔ آج استاد، ڈاکٹر اور انجنئیر گرفتار، سیاسی کارکن قید، سیاست اور میڈیا پر قدغن ہے۔ اساتذہ اور ملازمین کی کال ٹریس کرنیوالے 8 مہینوں تک معصوم مصور کاکڑ کے والدین سے کروڑوں کی تاوان طلب کرنے والوں کی کال ٹریس نہ کرسکے۔ جعلی حکومت اور جعلی اسمبلی کا سب سے بڑا ثبوت اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ کو پھولوں کے ہار پہنانا ہے۔ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں جو ڈھونگ 8 فروری کو انتخابات کے نام رچایا گیا وہ انتخاب نہیں نیلام تھا۔ مائنز اینڈ منرل بل پاس کرنیوالے ہمارے بچوں کے نوالے کے مجرم ہے۔ گرینڈ الائنس کی طرف سے جس احتجاج کا اعلان کیا جائے گا، عوامی نیشنل پارٹی تحصیل، ضلع اور صوبے کے لیول پر ان کے شانہ بشانہ ہوگی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آغا ظاہر، ڈاکٹر اکرام، اقبال زہری کی گرفتاری حکمرانوں پر خوف طاری کی سب سے بڑی علامت ہے۔ جبر استبداد کے یہ دن جلد ختم ہوں گے۔ جو ہمیں قید و بند سے ڈراتے ہیں، جو لوگ ہمیں گرفتاریوں سے مرعوب کرانا چاہتے ہیں، انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ سروں کی قربانی دینے والے ان جیسے حربوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملازمین کے گرینڈ الائنس کے مطالبات کے حق میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کے دوران کیا۔ مظاہرے سے ضلع کوئٹہ کے صدر ثناء اللہ کاکڑ، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عبیداللہ عابد، مرکزی سیکرٹری طلباء، رشید خان ناصر، بلوچستان گرینڈ الائنس کے قائمقام آرگنائزر عبدالسلام زہری، صوبائی نائب صدر جمال الدین رشتیا، گرینڈ الائنس کے رہنماء علی بخش جمالی، سیسا رہنماء سائرہ خان، ضلع کوئٹہ کے سینئر نائب صدر حاجی شان عالم کاکڑ، پریس سیکرٹری زین اللہ درانی اور ملک عبدالستار خلجی نے بھی خطاب کیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء اصغر خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلب کے سامنے بارہا احتجاج کیا ہے، لیکن آج جس مقصد کیلئے احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں وہ یقینا تکلیف دہ عمل ہے۔ وہ طبقہ جنہیں سر آنکھوں پر بٹھانا چاہئے، انہیں آج سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے۔ حکمران ملازمین کا سامنا کرنے کے بجائے انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، جو ان کی بوکھلاہٹ اور کھوکھلا پن کی سب سے بڑی علامت ہے۔ ہم شروع دن سے کہتے آرہے ہیں کہ جو ڈھونگ 8 فروری کو انتخابات کے نام پر آکشن کرایا گیا، اس کے ثمرات آج قدرتی وسائل کی نیلامی سے لیکر اساتذہ کرام، ڈاکٹر اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی کٹوتی تک آپہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرینڈ الائنس مستقبل میں جس سطح پر احتجاج کا اعلان کرے گی، اے این پی تحصیل، ضلع اور صوبے کی سطح پر آپ کے شانہ بشانہ ہوں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گرینڈ الائنس رہے ہیں کہا کہ

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری