بھارت میں کروڑوں کے جہیز کے باوجود سسرالیوں کے مظالم کی شکار بہو نے خودکشی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں جہیز میں سونے کے سکے اور کروڑوں کی گاڑی ملنے کے باوجود سسرالیوں اور شوہر کے ناروا سلوک سے تنگ بیوی نے خودکشی کرلی۔
27 سالہ رتھنیا اور کاوین کمار کی شادی رواں سال اپریل کو ہوئی تھی۔ شادی میں دلہن کے گھر والوں کی طرف سے 300 سونے کے سکّے اور 70 لاکھ بھارتی روپے قیمت کی Volvo کار بطور جہیز دی گئی، اور وعدہ کیا گیا تھا مزید 200 سکّے بھی دیے جائیں گے۔
شادی کے محض دو ماہ بعد رتھنیا مسلسل ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار رہیں جس میں انہیں چھوٹی غلطیوں پر جسمانی و ذہنی سزا دی جاتی تھی۔
29 جون 2025 کو رِتھنیا ایک مندر جانے کے بہانے گھر سے نکلیں اور کیڑے مار دوا خریدی اور گاڑی میں آکر بیٹھ گئیں جہاں انہیں وہ زہریلی دوا کھا کر خودکشی کرلی۔
جائے وقوعہ پر موجود افراد نے گاڑی میں منہ سے جھاگ نکالتے ہوئے بیہوش خاتون کو دیکھا اور فوراً اسپتال منتقل کیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکی ۔
پولیس نے رِتھنیا کے شوہر، سسر اور ساس کے خلاف جہیز ہراسانی اور خودکشی کا سبب بننے کے الزامات میں مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔
تامل ناڈو کے قومی میشن برائے خواتین نے واقعے کے بعد 72 گھنٹوں میں کیس کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔