دبئی میں جعلی پولیس بن کر لوٹنے والے 5 ایشیائی باشندوں کو قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
دبئی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جولائی 2025ء ) متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں جعلی پولیس بن کر لوگوں کو لوٹنے والے 5 ایشیائی باشندوں کو قید کی سزا سناتے ہوئے بھاری جرمانہ بھی عائد کردیا گیا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق پانچ ایشیائی مردوں کو ایک ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے اور انہیں پولیس افسران کی نقالی کرنے اور ایک عرب شہری کو 9 ہزار 900 درہم کی دھوکہ دہی کا مجرم پائے جانے پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، سزا پوری ہونے کے بعد انہیں ملک بدر کردیا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ دبئی کی انسداد بدعنوانی کی عدالت نے خود کو قانون نافذ کرنے والے افسران کے طور پر ظاہر کرنے اور متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے ساتھ اپنے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کے بہانے متاثرہ شخص پر اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات ظاہر کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر مدعا علیہان کو مجموعی طور پر 9 ہزار 900 درہم کا جرمانہ بھی کیا۔(جاری ہے)
عدالتی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ یہ واقعہ رواں برس مارچ میں پیش آیا، جب متاثرہ شخص کو گینگ کے ایک رکن کی طرف سے ایک فون کال موصول ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ پولیس افسر ہے اور جب تک وہ اپنے بینک اکاؤنٹ کی معلومات کو فوری طور پر اپ ڈیٹ نہیں کرتا، اس کا اکاؤنٹ منجمد کر دیا جائے گا، وارننگ سے گھبرا کر اس شخص نے اپنی تفصیلات فراہم کردیں اور تھوڑی ہی دیر بعد اسے علم ہوا کہ 9 ہزار 900 اس کے اکاؤنٹ سے بغیر اجازت کے نکال لیے گئے۔
معلوم ہوا ہے کہ تحقیقات کے دوران ملزمان کے ٹھکانے کا علم ہونے پر دبئی پولیس دیرہ کے ایک اپارٹمنٹ پہنچی لے جہاں یہ مشتبہ افراد کام کر رہے تھے، پولیس نے فلیٹ سے کئی سمارٹ فون ضبط کیے، کچھ جوتوں اور پلاسٹک کے تھیلوں کے اندر چھپائے گئے تھے جنہیں متاثرین سے بات چیت کے لیے استعمال کیا گیا، فرانزک تحقیقات نے تصدیق کی کہ شکایت کنندہ سے رابطہ کرنے کے لیے ان ہی میں سے ایک فون کا استعمال کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ ایک ایسے شخص کی ہدایت پر کام کر رہے تھے جس نے اپارٹمنٹ کرائے پر لے کر ملک چھوڑ دیا تھا، اس نے انہیں یو اے ای سے باہر سے ہدایات فراہم کیں، جس پر انہوں نے متاثرین کے بینکنگ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے فنڈز نکالے اور انہیں اس کے بدلے 1 ہزار 800 اور 2 ہزار درہم کے درمیان ماہانہ تنخواہ ادا کی گئی۔ بتایا جارہا ہے کہ عدالت نے پانچوں کو دھوکہ دہی اور شناخت کی غلط بیانی کا قصوروار پایا، جس پر انہیں سزا سنائی گئی اور قید کی مدت پوری کرنے کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا، دبئی پولیس نے اس کیس کو رہائشیوں کو یہ یاد دلانے کے لیے استعمال کیا ہے کہ وہ فون کے ذریعے کسی بھی قسم کے فراڈ کا شکار نہ ہوں، خاص طور پر وہ کال کرنے والے جو پولیس یا بینک کے اہلکاروں کی نقالی کرتے ہیں ان سے ہوشیار رہیں کیوں کہ دبئی پولیس کسی بھی حالت میں فون پر بینکنگ معلومات فراہم کرنے کی درخواست نہیں کرتی، ایسی کسی بھی کال کو مشکوک سمجھا جانا چاہیئے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کیا گیا کرنے کے قید کی کے لیے
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔