data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: حکومت نے 40 سے زائد اشیاء پر ٹیکس میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق موبائل فون سم کارڈز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 15 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کر دی گئی ہے، جب کہ نئی کاروں اور منی وینز پر ڈیوٹی ایک تہائی کم ہو کر 10 فیصد تک لائی گئی ہے۔

درآمد شدہ ایس یو ویز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 44 فیصد کم ہونے کے بعد اب یہ 50 فیصد رہ گئی ہے۔ اسی طرح مرغی اور مچھلی پر ڈیوٹی 5 فیصد مقرر کی گئی ہے، جب کہ پرندوں کے انڈوں پر ڈیوٹی 15 فیصد سے گھٹا کر 10 فیصد کر دی گئی ہے۔

کتے اور بلی کے کھانے پر بھی 5 فیصد کمی کے بعد ریگولیٹری ڈیوٹی 40 فیصد کر دی گئی ہے، اور ریٹیل پیک میں انسٹنٹ کافی پر بھی 5 فیصد کمی کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ تمباکو پر ڈیوٹی 40 فیصد تک کم کردی گئی، کھجور، ناریل، برازیلی گری دار میوے اور کا جو پر ڈیوٹی 16 فیصد تک کم کی گئی، انجیر، انناس، ایوکاڈو، امرود اور آم پر ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے جب کہ پپیتا اورسیب پر ڈیوٹی 45 فیصد سے کم کرکے 36 فیصد کر دی گئی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق گری دار میوے پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 4 فیصد کمی کی گئی ہے، فروزن مچھلی پرڈیوٹی نصف کرکے 17.

5 فیصد کر دی گئی ہے جب کہ پنیر اور دہی کی درآمد پرڈیوٹی 10 فیصد کمی سے 50 فیصد کم کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق  ٹیکس کی شرح میں کمی کا اطلاق یکم جولائی سےہوگیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیصد کر دی گئی ہے ریگولیٹری ڈیوٹی کی گئی ہے پر ڈیوٹی فیصد کمی فیصد کم

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی