ایف بی آر کا بڑا ریلیف: 7 ہزار آئٹمز پر ٹیکس و ڈیوٹی میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نئے مالی سال کے آغاز پر ملکی صنعت کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 7 ہزار سے زائد اشیا پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ اقدام خام مال اور ان سے متعلقہ مصنوعات پر لاگت کم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور معیشت کو فعال بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی ٹیکس محصولات میں 42 فیصد تاریخی اضافہ، وزیراعظم کی ایف بی آر کو ڈیجیٹائزیشن میں تیزی لانے کی ہدایت
ایف بی آر کے مطابق جن اشیا پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، ان میں پولٹری انڈسٹری کے لیے بریڈنگ مرغ، فروزن مچھلی، زندہ مچھلی، کواڈ فش، دودھ، ملک پاؤڈر، دہی، پان، صابن اور کاسمیٹکس سمیت کئی اہم اشیا شامل ہیں۔
Salient Feature by Muhammad Nisar Khan Soduzai on Scribd
بریڈنگ مرغ کی امپورٹ ڈیوٹی 5 فیصد کردی گئی ہے، جبکہ فروزن مچھلی پر ریگولیٹری ڈیوٹی 17.
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین ایف بی آر نے نئے مالی سال کو ٹیکس دہندگان کے لیے سہولتیں دینے کا سال قرار دیدیا
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 90 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کردی گئی ہے، اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی مختلف شرحوں میں کمی کی گئی ہے۔ اس اصلاحاتی عمل کا مقصد آئندہ 5 سال میں اوسط کسٹمز ٹیرف کو 19 فیصد سے کم کر کے 9.5 فیصد تک لانا ہے۔
یہ اقدامات صنعتی خام مال کی درآمد کو سستا بنانے اور مقامی پیداواری لاگت میں کمی لانے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے اور معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
FBR we news ایف بی آر پاکستان ٹیکس ریگولیٹری ڈیوٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر پاکستان ٹیکس ریگولیٹری ڈیوٹی ریگولیٹری ڈیوٹی ایف بی آر گئی ہے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔