وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نئے مالی سال کے آغاز پر ملکی صنعت کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 7 ہزار سے زائد اشیا پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ اقدام خام مال اور ان سے متعلقہ مصنوعات پر لاگت کم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور معیشت کو فعال بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی ٹیکس محصولات میں 42 فیصد تاریخی اضافہ، وزیراعظم کی ایف بی آر کو ڈیجیٹائزیشن میں تیزی لانے کی ہدایت

ایف بی آر کے مطابق جن اشیا پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، ان میں پولٹری انڈسٹری کے لیے بریڈنگ مرغ، فروزن مچھلی، زندہ مچھلی، کواڈ فش، دودھ، ملک پاؤڈر، دہی، پان، صابن اور کاسمیٹکس سمیت کئی اہم اشیا شامل ہیں۔

Salient Feature by Muhammad Nisar Khan Soduzai on Scribd

بریڈنگ مرغ کی امپورٹ ڈیوٹی 5 فیصد کردی گئی ہے، جبکہ فروزن مچھلی پر ریگولیٹری ڈیوٹی 17.

5 فیصد، زندہ مچھلی اور کواڈ فش پر 5 فیصد کردی گئی ہے۔ امپورٹڈ دودھ، ملک پاؤڈر اور دہی پر ڈیوٹی اب 20 فیصد ہ گی، جبکہ پان پر ریگولیٹری ڈیوٹی 400 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین ایف بی آر نے نئے مالی سال کو ٹیکس دہندگان کے لیے سہولتیں دینے کا سال قرار دیدیا

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 90 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کردی گئی ہے، اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی مختلف شرحوں میں کمی کی گئی ہے۔ اس اصلاحاتی عمل کا مقصد آئندہ 5 سال میں اوسط کسٹمز ٹیرف کو 19 فیصد سے کم کر کے 9.5 فیصد تک لانا ہے۔

یہ اقدامات صنعتی خام مال کی درآمد کو سستا بنانے اور مقامی پیداواری لاگت میں کمی لانے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے اور معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

FBR we news ایف بی آر پاکستان ٹیکس ریگولیٹری ڈیوٹی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر پاکستان ٹیکس ریگولیٹری ڈیوٹی ریگولیٹری ڈیوٹی ایف بی آر گئی ہے کے لیے

پڑھیں:

ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ

قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور  مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔

سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار