7 ہزار درآمدی اشیاء پر ٹیکس و ڈیوٹی میں کمی، ایف بی آر کا بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے آغاز پر 7 ہزار سے زائد درآمدی اشیاء پر ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کا بڑا فیصلہ کر لیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف صنعتی، زرعی، روزمرہ استعمال اور غذائی اشیاء پر ڈیوٹی میں کمی کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
نئے مالی سال میں درآمدی میک اپ اور خام مال پر ڈیوٹی 55 فیصد سے کم ہو کر 44 فیصد،فیس واش، صابن اور متعلقہ خام مال پر ڈیوٹی 50 فیصد سے کم ہو کر 40 فیصد،درآمدی سبزیوں پر ڈیوٹی 5 فیصد مقرر،درآمدی کھجور پر ڈیوٹی 20 فیصد ہو گئی ہے۔
اسی طرح لائیو اسٹاک میں بریڈنگ جانور کی امپورٹ پر ڈیوٹی 5 فیصد،پولٹری انڈسٹری میں بریڈنگ مرغ پر بھی ڈیوٹی 5 فیصد،امپورٹڈ زندہ مچھلی پر ریگولیٹری ڈیوٹی 5 فیصد،دودھ، پاؤڈر ملک، دہی پر ڈیوٹی 20 فیصد،ملک کریم، مکھن، ملک فیٹس پر بھی 20 فیصد ڈیوٹی،امپورٹڈ پنیر پر ڈیوٹی 40 فیصد کر دی گئی ہے۔
نئے مالی سال میں شہد پر ڈیوٹی 24 فیصد،گندم کا آٹا اور میدہ پر ڈیوٹی 20 فیصد،پان کی درآمد پر ڈیوٹی 400 روپے فی کلو،کافی پر ڈیوٹی 15 فیصد کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کا مقصد صنعتی شعبے، صارفین، اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں استحکام لانا ہے۔ ڈیوٹی میں کمی سے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی آنے کی توقع ہے، جبکہ صنعتی شعبے میں پیداواری لاگت میں بھی کمی آئے گی۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈیوٹی میں کمی ڈیوٹی 5 فیصد پر ڈیوٹی 5
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔