لاہور؛ سوشل میڈیا ایپ پر خریدار بن کر موبائل فونز، موٹر سائیکل ہتھیانے والا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
لاہور:
سوشل میڈیا ایپ پر خریدار بن کر قیمتی موبائل فونز اور موٹر سائیکل ہتھیانے والے بین الصوبائی گروہ کا سرغنہ گرفتار کر لیا گیا۔
گجرپورہ پولیس کے مطابق ملزمان موٹر سائیکل اور قیمتی موبائل فونز کی خرید و فروخت کے لیے سوشل میڈیا ایپ پر بطور خریدار مالک سے رابطہ کرتے تھے اور چیک کرنے کے بہانے موٹر سائیکل اور قیمتی موبائل فونز سمیت رفو چکر ہو جاتے تھے۔
ایس ایچ او محمد زکاء اور پولیس ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ملزم کو گرفتار کیا۔ گروہ کے سرغنہ علی شہباز کو سی سی ٹی وی کیمروں اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
گروہ کا سرغنہ اور ریکارڈ یافتہ ملزم علی شہباز جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی سمیت گرفتار کیا گیا۔
ملزم علی شہباز نے لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد میں خریدار بن کر وارداتیں کرنے کا انکشاف کیا۔ ملزم پیٹرول پمپ پر گاڑی میں پیٹرول ڈلواتا اور رقم بذریعہ فیک جاز کیش میسج دکھا کر ادا کرتا۔ پیٹرول پمپ اسٹاف کے مزید دریافت پر گاڑی سمیت بھاگ جاتا۔
ایس پی سول لائن کے مطابق ملزمان گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ کا استعمال کرکے وارداتیں کرتے تھے۔
ایس ایچ او گجرپورہ محمد ذکاء نے بتایا کہ ملزم کے قبضہ سے پستول و گولیاں، جعلی نمبر پلیٹ والی لگژری گاڑی اور 4 قیمتی موبائل فونز برآمد کر لیے۔
ایس پی سول لائن چودھری اثر علی کا کہنا تھا کہ ملزم علی شہباز کے دوسرے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے گجر پورہ پولیس ٹیم کو شاباش دی اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان قیمتی موبائل فونز موٹر سائیکل علی شہباز
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔