انضمام سے ہجرت تک: تارکین وطن آخر کیوں جرمنی چھوڑتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جولائی 2025ء) ہجرت کر کے جرمنی آنے والے بہت سے غیر ملکی اپنے بہتر مستقبل اور سماجی استحکام کے خواب لیے یورپ کے قلب میں واقع اس ملک کا رُخ کرتے ہیں۔جرمن معاشرے میں ضم ہونے کی شرائط پوری کرنے کے باوجود ان میں سے اکثر خود کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں نظر انداز ہوتا اور الگ تھلگ کر دیا گیا محسوس کرتے ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب بہت سے ایسے تارکین وطن کی کہانیوں میں ملتا ہے۔''وہ سب کچھ جو مجھے جرمنی لے کر آیا وہ یہاں نہیں ہے۔ ایک وقت یہ آیا کہ میں نے سوچا بس اب کافی ہو گیا۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے، اگر کبھی ہوئے، اس ملک میں پروان چڑھیں۔‘‘ یہ الفاظ ہیں گیانس این کے، جنہوں نے اپنا آخری نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کی۔
(جاری ہے)
گیانس اٹھارہ سال کی عمر میں یونانی جزیرے ساموس کو چھوڑ کر جرمنی میں سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے آئے تھے۔ انہوں نے ترک وطن کا فیصلہ جرمنی میں ایک مضبوط سماجی انصاف کے نظام اور یہاں مستقبل کے بہتر مواقع کی شہرت سے مرعوب ہوکر کیا۔
2020ء میں، ماسٹر کی ڈگری ان کے ہاتھ آ چُکی تھی، لیکن پھر انہوں نے 16 سال بعد اپنے وطن واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔
انہوں نے مغربی جرمنی کے شہر ایسن میں پرائیویٹ سیکٹر میں پراجیکٹ مینیجر کے طور پر کام بھی کیا اور بعد ازاں ایک سول انجینئر کے طور پر پبلک سیکٹر میں پل کی تعمیر کا کام انجام دینے لگے۔ آخر کار انہیں فری لانسر کے طور پر اپنی قسمت آزمانا پڑی۔39 سالہ گیانس این نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میں نے وہاں (جرمنی ) میں زندگی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن میں مسلسل رکاوٹوں کا سامنا کرتا رہا۔
‘‘گیانس نے ایک حیرت انگیز مثال دیتے ہوئے کہا، ''میں ایک تعمیراتی سائٹ پر کام کر رہا تھا۔ میرے کلائنٹ نے حتمی رسید ادا کرنے سے انکار کر دیا- یہ ایک لاکھ یورو کی خطیر رقم تھی۔ جب میں نے اُن سے اپنے کام کی یہ فیس طلب کی تو ان کا جواب تھا، میں تمہیں یہاں جرمنی میں امیر نہیں ہونے دوں گا۔‘‘
گیانس کے بقول یہ رویہ ان کے غیر ملکی پس منظر سے ناراضگی اور مخالفت کا اظہار تھا۔
انہیں شدت سے یہ احساس ہوا کہ انہیں کبھی بھی صحیح معنوں میں قبول یا تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ان کے اس احساس نے انہیں بالآخر جرمنی چھوڑنے پر مجبور کیا۔گیانس نے یہ سمجھنے کے بعد کہ چاہے وہ جرمن معاشرے میں کتنا ہی مربوط اور ضم کیوں نہ ہوجائیں، انہیں ہمیشہ ایک''یونانی‘‘ کے طور پر دیکھا جائے گا۔
گیانس نے مزید کہا،''پہلے آپ یونیورسٹی میں سست یونانی کہلاتے ہیں، پھر کام پر کرپٹ یونانی۔
میں یونانی ہونے پر فخر کرتا ہوں، لیکن اس سوچ نے آخرکار میرے لیے زہر بننا شروع کر دیا۔‘‘ جرمن زبان میں مہارت کے بغیر 'بھوت‘کی حیثیتتینتیس سالہ ترک نژاد اُتکو سین پیشے کے لحاط سے سائبر سکیورٹی انجینئر ہیں۔ انہوں نے بھی تین سال کے بعد جرمنی چھوڑ دیا - وہ بھی گیانس جیسے احساسات رکھتے ہیں۔ برلن میں اپنے پہلے سال کو ''ایک سہاگ رات‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے سین نے ڈوئچے ویلے ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں اس امر کا بھرپور ادراک تھا کہ جرمن زبان میں مہارت کے بغیر کسی بھی نئے غیر ملکی کے لیے جرمنی میں زندگی بسر کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں،''ایک ترک باشندے کے طور پر میں نے خود کو ہمیشہ ایک دوسرے درجے کے شہری کی طرح محسوس کیا۔ میں نے سوچا کہ جرمن کمیونٹی کا حصہ بننے میں کئی دہائیاں لگیں گی بلکہ شاید ایسا کبھی نہیں ہو پائے گا۔‘‘سین جرمنی میں روزمرہ کے امتیازی سلوک کے بارے میں ترک زبان میں یو ٹیوب پر ایک ویڈیو پر پوسٹ کرنے کے فوراً بعد لندن چلے گئے۔
اس ویڈیو نے تقریباً نصف ملین ویوز حاصل کیے۔ جرمن زبان کی روانی بھی ہمیشہ مدد نہیں کرتیبلغاریہ سے تعلق رکھنے والی کالینا ویلیکووا کے مطابق جرمن زبان روانی سے بولنا جرمنی میں انضمام کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم نہیں کرتا۔ 35 سالہ ویلیکووا نے بون میں نو سال تعلیم حاصل کرنے اور سماجی خدمات سر انجام دینے میں گزارے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی یونیورسٹی کے ابتدائی سالوں کے دوران ہی محسوس ہو گیا تھا کہ مہارت سے جرمن بولنے کے باوجود لوگ انہیں قریب نہیں آنے دیتے۔
وہ کہتی ہیں،'' میں ایک دن کسی سے بات کروں تو اگلے دن ایسا لگتا تھا کہ وہ مجھے پہچانتا ہی نہیں۔‘‘ وقت کے ساتھ ساتھ سماجی دوری کا احساس کالینا ویلیکووا کے لیے بڑھتا گیا۔2021ء میں، ویلیکووا بون سے صوفیہ کے لیے روانہ ہوئیں، جہاں اب وہ بطور پراجیکٹ مینیجر کام کرتی ہیں۔
جرمنی کو کیا کرنا چاہیے؟ان تمام کہانیوں کے پیچھے ایک مشترکہ احساس پایا جاتا ہے۔
یہ سچے کردار اس امر کا تقاضہ کر رہے ہیں کہ جرمنی کو سیاسی اور سماجی ہم آہنگی اور کھلے پن کو فروغ دینا ہوگا۔ تارکین وطن کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جرمن معاشرے میں وسیع پیمانے پر تعلیم او تربیت اشد ضروری ہے۔اس ضمن میں نسل پرستی اور اجانب دشمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے حکومتی اداروں کو فعال کرنے کی ضرورت ہے نیز کم آمدنی والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی بھی متعارف کروائی جانا چاہیے۔ مذکورہ افراد کی کہانیاں جرمنی میں سماجی تبدیلی کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
ادارت : شکور رحیم
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے طور پر کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس