سسٹم اسموتھ ہے، ترامیم اپنے وقت پر آئینگی، عامر الیاس رانا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
لاہور:
تجزیہ کار عامر الیاس رانا کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ 28,27اور 29 ویں ترمیم کی بات کر رہے ہیں،ترامیم اپنے وقت پر آئیں گی اس وقت کسی کو کوئی جلدی نہیں ہے، اس وقت سارا سسٹم سموتھ ہے، لیکن جب ترامیم لانی ہیں اور جو آپ نے کہا کہ جے یو آئی کے اوپر زیادہ نہ بینک کیا جائے ، پیپلزپارٹی کے اٹھارہویں ترمیم پر مسائل ہیں یعنی موجودگی تو سب کی چاہیے ہو گی۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام اسٹیٹ کرافٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آرٹیکل255 انٹرڈیوس ہوا ہے26 ویںترمیم میں جس میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ اگر آپ حلف نہیں لیتے تو متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس یا ان کا نامزد کردہ بندہ اوتھ لے لے گا۔
تجزیہ کار نصر اللہ ملک نے کہا کہ دیکھیں کہ اگر آپ یہ کہیں کہ انصاف کے جو تقاضے پی ٹی آئی سمجھتی ہے وہ پورے ہوئے ہیں تو یقینی بات ہے کہ پی ٹی آئی کو اعتراض ہے،12جولائی کا جو فیصلہ تھا اس میں لکھا گیا کہ ول آف دی پیپل، میرا خیال ہے کہ خواہشات پر فیصلے نہیں ہوتے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کہیں زیادتی ہوئی ہے، وہ کہیں وکٹمائز ہوئی ہے، پی ٹی آئی لوگوں کے ساتھ بھی کرتی رہی ہے ، پی ٹی آئی کے ساتھ بھی ہوا ہے، اس میں کوئی دوسری رائے تو ہو نہیں سکتی لیکن آپ ول آف دی پیپل کی بنیاد پہ، خواہشات کی بنیاد پہ آپ فیصلے نہیں دیتے۔
تجزیہ کار حماد حسن نے کہا خواجہ صاحب نے جو بات کی کہ اپوزیشن ملکر تحریک عدم اعتماد تو ایسا عملی طور پر فی الحال ناممکن ہے ، میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ اسمبلی میں کئی گروپس موجود ہیں، شدید ناراضگیاں موجود ہیں، گنڈاپور کا اپنا ایک موثر گروپ پہلے سے موجود ہے، اسد قیصر شاہرام تراکئی کا گروپ ہے،عاطف خان کا گروپ ہے، شہریار آفریدی کا الگ سے گروپ ہے، ضروری نہیں ہے کہ یہ گروپ باہم یکجا رہیں، وہ وقت کے مطابق معاملات کو دیکھیں گے اور اپنی پالیسی بنائیں گے، اب گنڈا پور ایسی پوزیشن پر آ چکے ہیں کہ ان کو ہٹانا عمران خان کے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن ہو گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔